امریکہ کے کشیر الاشاعت اخبار نیو یارک ٹائمز نے صدر رجب طیب ایردوان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں خطاب کا جائزہ پیش کیا ہے۔
خبروں میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریریں کرنے والے رہنماؤں میں سب سے نمایاں نام تھے اور روس یوکرین بحران کے حل کے لیے دونوں رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا گیا ۔
خبروں میں صدر ایردوان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان گزشتہ ہفتے ازبکستان میں ہونے والی آخری ملاقات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ صدر ایردوان نے جنگ کے دوران اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ قریبی مراسم برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے عالمی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی، اور اپنی آخری ملاقات میں انہوں نے یوکرین کی قبضہ کردہ سرزمین کی واپس کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
جیسا کہ صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ ، "ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ میں کبھی بھی فاتح نہیں ہوگا، اور منصفانہ امن کے عمل میں کوئی ہارا نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک معقول، منصفانہ طریقے سے بحران سے نکلنے کا باعزت راستہ درکار ہے۔ صدر ایردوان نے یوکرین کے اناج برآمد کرنے کے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا۔
خبروں میں صدر ایردوان کی سفارتی کوششوں اور کامیابیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی، جبکہ میکرون، جنہوں نے کہا کہ وہ کئی مہینوں سے پوتن کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکےہیں۔
