سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، متاثرین وبائی امراض میں جکڑتے جا رہے ہیں اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے سیلاب متاثرین گیسٹرو اور ملیریا سمیت مختلف وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں، ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال میں روزانہ 2000 سے زائد مریض آرہے ہیں مگر کسی کو ڈاکٹر دستیاب نہیں تو کوئی دوائی کے لیے پریشان ہے جبکہ اسپتال میں ملیریا کی ویکسین بھی موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب سندھ میں سیلاب اور بارش کے پانی کی عدم نکاسی سے بیماریوں میں شدت آ گئی ہے، دادو میں گیسٹرو، ملیریا، دیگر بیماریوں سے مزید 3 افرادانتقال کرگئے جس سے ضلع میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ دادو کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد 8000 کے قریب ریکارڈ کی گئی ہے۔
