English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا پیوٹن ایٹمی حملہ کر دیں گے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
’میں دھمکا نہیں رہا۔‘ یہ وہ تین الفاظ ہیں جو روس کے صدر ولادی میر پوتن نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں کہے۔ ان لفظوں سے لگتا ہے کہ ایٹمی جنگ کی دھمکی دی گئی۔
روسی صدر کے ’تباہ کن ہتھاروں‘ کے بارے میں بیان کے بعد میڈیا میں ان کے وفاداروں نے اس حوالے سے باتیں شروع کر دیں۔ روس کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی کی ایڈیٹر انچیف مارگریٹا سمونیان نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ یا تو ’ہماری ناگزیر فتح کی دہلیز یا پھر ایٹمی جنگ کی دہلیز ہے۔‘
تو کیا روسی صدر دھمکا رہے ہیں یا نہیں؟ مغربی دنیا میں یہ مفروضہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ بس دھمکا رہے ہیں اور یہ کہ 60 سال پہلے نکیتا خروشیف کی طرح پوتن پہلے پلک جھپکیں گے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی دھمکی کو چیلنج کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ہم روسی جارحیت کے خلاف یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘ دوسرے مغربی رہنماؤں نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا۔
پوتن یوکرین پر حملے کے بعد بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے کوئی فوجی حملہ نہیں کیا۔ اس لیے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ دھمکا نہیں رہے تو ہمیں ان کی بات پر کیوں یقین نہیں کرنا چاہیے؟
 روس کے جوہری ہتھیاروں کے نظام میں چار ہزار 477 جوہری وار ہیڈز شامل ہیں جن میں سے تقریباً 1,900 نان اسٹریٹجک وار ہیڈز ہیں، فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق اسے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو تبدیل کر دیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تبدیلی سے ان کی مراد ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہی ہیں۔
صدر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ علاقائی سالمیت، روس اور عوام کے دفاع کو خطرے کی صورت میں موجود تمام ہتھیاروں کے نظام کو استعمال کریں گے اور یہ کوئی چال نہیں ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے کم دھماکے کا حوالہ گمراہ کن ہے کیونکہ 10 سے 100 کلو ٹن بارود کی دھماکہ خیز قوت بڑی تباہی پھیلانے کے لیے کافی ہے۔
پوتن کی دھمکی کا جواب امریکی صدر جو بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران دیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ایسی خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جو دوسری جنگ کے بعد دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے روسی صدر کو ایسے ارادوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ البتہ امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سولیوان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے روس کی طرف سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی صورت میں امریکی رد عمل کی تفصیل بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ روس کو سفارتی ذرائع کے ذریعے صاف طور سے بتا دیا گیا ہے کہ امریکی ردعمل کیا ہو گا۔ انہوں نے مطلع کیا کہ امریکہ گزشتہ چند روز کے دوران یوکرین کے مسئلہ پر براہ راست ماسکو کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان رابطوں کا یہی مقصد ہو سکتا ہے کہ کسی تباہ کن صورت حال کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔
اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ روسی، امریکی اور نیٹو لیڈر محض ایک دوسرے کو دھمکانے اور یوکرین کی جنگ پر اثر انداز ہونے کے لئے محتاط انداز میں اپنی طاقت اور صلاحیت کے بارے میں ’شیخی بگھارنے‘ کی کوشش کر رہے ہیں تو بھی دنیا کے لئے یہ ایک نئی صورت حال ہے جس میں جوہری ہتھیاروں سے لیس دو بڑی طاقتیں میڈیا بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے پاس کتنے خطرناک ہتھیار ہیں اور وہ محض ’نمائشی‘ نہیں ہیں۔
ان دھمکی آمیز بیانات کو ایک لحاظ سے شکست خوردگی کا اظہار یا اس پر مایوس کن رد عمل بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ روس اور امریکہ و نیٹو ممالک بخوبی ایک دوسرے کی عسکری و جوہری صلاحیت سے آگاہ ہیں۔ اپنی جنگی صلاحیت کے بارے میں دھمکانے کے لئے کسی پبلک پلیٹ فارم کا استعمال غیر ضروری اور افسوسناک ہے۔

روس نے فروری میں یوکرین پر حملہ کیا تھا لیکن 7 ماہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس نے گو کہ مشرقی یوکرین کے متعدد علاقوں پر قبضہ کیا ہے لیکن اسے یوکرین کی طرف سے غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ چند ہفتے کے دوران میدان جنگ سے آنے والی خبروں کے مطابق یوکرینی فوجوں نے مشرق میں متعدد علاقوں کو واگزار کروایا ہے اور روسی فوج کو مورچے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

روس اس یوکرینی کامیابی کا براہ راست اعتراف نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی طرف سے کچھ علاقوں میں روسی فوج کی ہزیمت کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن ماسکو مغربی ممالک کو یوکرینی مزاحمت کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ روسی حکام کا یہ موقف بڑی حد تک درست ہے کہ اگر نیٹو اور اس مغربی عسکری اتحاد کے حلیف ممالک یوکرین کو وسیع پیمانے پر ہتھیار فراہم نہ کرتے تو شاید روس بہت پہلے یوکرین کے مطلوبہ علاقوں پر قبضہ کر کے نام نہاد ’جنگ بندی‘ کا اعلان کرچکا ہوتا۔ البتہ اس کا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔

ان حالات میں ایٹمی جنگ کی دھمکی کو محض سیاسی و عسکری حکمت عملی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک تشویش صورت حال ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں خطرناک جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک ایک دوسرے کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر کسی لیڈر نے ارادتاً ا ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش نہ بھی کی تو سنسنی خیزی کے ماحول میں غیر ارادی یا سانحاتی طور سے جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔ ایسا کوئی عمل دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغامبر ہو گا۔ یہ تصور کر لینا کہ کسی جوہری جنگ کو ایک خاص علاقے تک محدود رکھا جاسکتا ہے یا اس کا نقصان کسی ایک ہی ملک کو ہو گا، حقائق سے نگاہیں چرانے کے مترادف ہے۔

ان حالات میں روس اور امریکہ کو یکساں طور سے تصادم ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یوکرین میں جنگ کا کوئی بھی موقع محض دوسرے کو کمزور یا کم ہمت سمجھ کر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایٹمی ہتھیار ہمت یا حوصلہ سے نہیں گھبراہٹ یا شدید پریشانی کی صورت میں استعمال ہوں گے۔ امریکہ کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ روس کو ایسی کسی صورت حال کی طرف دھکیلنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔

شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے