وزیراعظم ہاؤس سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی مبینہ آڈیوز لیک ہونے کے بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی مبینہ آڈیو بھی لیک ہوگئی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے ساتھ مبینہ امریکی سائفر کے حوالے سے گفتگو میں انہیں اس حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
آڈیو کی ابتدا میں مبینہ طور پر عمران خان نے کہا کہ ہم نے بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر، نام نہیں لینا امریکا کا، صرف کھیلنا ہے کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی اس کے اوپر۔
مبینہ طور پراعظم خان نے کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر ہے میرا خیال ہے ایک میٹنگ اس پر کرلیتے ہیں، دیکھیں آپ کو یاد ہو تو سفیر نے آخر میں لکھا تھا ڈیمارچ کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو میں نے رات کو اس پر بہت سوچا کہ اس کو کس طرح کور کرنا ہے، ایک میٹنگ کرتے ہیں جس میں شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری خارجہ ہوں گے۔
عمران خان نے امریکی سازش کی کہانی کیسے بنائ۔ سنیے۔ pic.twitter.com/jwNSvZk9IQ
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) September 28, 2022
بات کو جاری رکھتے ہوئے آڈیو میں مزید کہا گیا کہ شاہ محمود کو کہیں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سنائیں، وہ جو بھی پڑھ کر سنائیں گے اسے کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں (تبدیل) کردوں گا کہ سیکریٹری خارجہ نے یہ چیز بنادی ہے۔
آڈیو میں مبینہ طور پر اعظم خان نے مزید کہا کہ ’بس اس کا کام یہ ہوگا کہ اس کا تجزیہ ہوگا جو اپنی مرضی کے منٹس میں کردیں گے تا کہ دفتری ریکارڈ میں آجائے اور تجزیہ یہ ہی ہوگا کہ سفارتی روایات کے خلاف دھمکی دی گئی، سفارتی زبان میں اسے دھمکی کہتے ہیں۔‘
مبینہ طور پر اعظم خان بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ ’(میٹنگ کے) منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا وہ پھر (اپنی مرضی سے) ڈرافٹ کرلیں گے‘
اس پر عمران خان کو یہ پوچھتے سنا جاسکتا ہے کہ ’تو پھر کس کس کو بلائیں اس میں، شاہ محمود قریشی، آپ (اعظم خان) اور سہیل (سیکریٹری خارجہ)، ٹھیک ہے تو پھر کل ہی کرتے ہیں۔
آگے اعظم خان کو مزید کہتے سنا گیا کہ ’تاکہ چیزیں ریکارڈ پر آجائیں، آپ یہ دیکھیں یہ قونصلیٹ فار اسٹیٹ ہیں، وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کرلوں گا آرام سے تو آن ریکارڈ آجائے گا کہ یہ چیز ہوئی ہے‘۔
آڈیو میں مبینہ طور پر اعظم خان نے عمران خان سے مزید کہا کہ آپ سیکریٹری خارجہ کو بلائیں تا کہ بیوروکریٹک ریکارڈ پر چلا جائے۔
جس کے بعد عمران خان کی آواز میں کہا گیا کہ ’نہیں تو اسی نے تو لکھا ہے سفیر نے‘۔
جس پر اعظم خان کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا۔۔۔۔۔ یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا۔
اس پر مبینہ طور پر عمران خان نے کہا کہ ’یہ یہاں سے اٹھی ہے، اس نے اٹھائی ہے، لیکن خیر تو غیر ملکی سازش بنادیتے ہیں‘۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردِ عمل
حالیہ آڈیو لیک پر پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری اور حماد اظہر نے ردِ عمل ضرور دیا لیکن اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
فواد چوہدری نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’نئی لیکس سے صرف یہ کنفرم ہوتا ہے کہ امریکی مراسلہ وزیراعظم سے چھپانے کی کوشش کی گئی‘۔
دوسری جانب حماد اظہر نے سائفر کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ پاکستانی عوام فیصلہ کر سکیں کہ کیا یہ ’سازش تھی یا اس سے بھی زیادہ‘۔
آڈیو کلپ پر عمران خان پر ایک تنقیدی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ’جب عمران خان وزیر اعظم تھے، ان کی حکومت کو بالکل اسی اسکرپٹ کے مطابق ہٹا دیا گیا تھا جو سائفر میں دیا گیا تھا۔
سوال !!عمران خان صاحب کیا مذاکرات ہوں گے یا دھرنا ہوگا ۔ ابھی انتظار کرنا ہوگا کس وقت کیا ہوگا!!عمران خان#muzammal_maan_pti pic.twitter.com/992LohgJrl
— Muzammal Maan PTI (@pti_maan) September 28, 2022
