English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چیف الیکشن کمشنر فوج  اور ایف سی کی مدد سے بلدیاتی انتخابات کروائیں،حافظ نعیم

القمر

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں 23اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو ممکن بنانے کے لیے وزارت دفاع کو خط لکھ کر فوج اور ایف سی کے اہلکاروں کو طلب کریں۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ سندھ حکومت شکست سے خوف زدہ ہوکر مسلسل انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کے لیے پولیس کی نفری اور سیلاب کا بہانہ بنارہی ہے،صوبائی حکومت بتائے کہ کراچی میں ہونے والے کرکٹ میچز کی سیکورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری کہاں سے لائی گئی؟

امیر جماعت اسلامی کراچی  کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ بتائیں کہ انہوں نے کتنے پولیس اہلکاروں کو اپنے پروٹوکول اسکواڈ سے نکال کر سیلاب زدگان کی مددکے لیے بھیجا ہے؟،سندھ حکومت ان پولیس اہلکاروں کی فہرست شہریوں کے سامنے پیش کرے جنہیں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سندھ حکومت کے اس طرزعمل کا نوٹس لیتے ہوئے شہر کی تمام اسٹیک ہولڈرجماعتوں کا اجلا س بلاکر واضح طور پر اعلان کرے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات 23اکتوبر کو ہی ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ 2015میں بلدیاتی انتخابات بھی عدالت کے کہنے پر ہوئے تھے اس وقت بھی سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کرواناچاہتی تھی اس سے قبل2009سے 2015تک شہر کے انتظامات ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلائے جاتے رہے اس وقت ایم کیو ایم براہ راست پیپلزپارٹی کے ساتھ شریک اقتدار تھی پھر پیپلزپارٹی نے ایک ایک کر کے سارے بلدیاتی اختیارات چھین لیے اور 30اگست 2020کو بلدیہ کی مدت ختم ہوگئی۔

انہوں نے مزید کہاکہ سندھ حکومت بتائے کہ 2020سے جولائی 2022تک کونسا سیلاب اور بارش تھی جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے اور صوبائی حکومت نے کیوں سیاسی ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا؟حقیقت یہ ہے کہ سیلا ب صرف بہانہ ہے،سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کرنا ہی نہیں چاہتی۔انہوں نے کہاکہ جناح اسپتال کے داخلی دروازے پر طویل عرصے سے سیوریج کا پانی جمع ہے،پیپلزپارٹی کے سیاسی اور غیر جمہوری ایڈمنسٹریٹر کہاں ہیں؟وہ جو بار بار یہ کہتے رہے کہ میونسپل ٹیکس کی مخالفت کر کے شہر کو تین ارب روپے کی آمدنی سے محروم کردیا،ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب وڈیروں اور جاگیرداروں سے کیوں نہیں پوچھتے کہ موٹروہیکل ٹیکس کے 77ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟،پی ایف سی ایوارڈ کہاں گیا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے