کسی ملک کی معیشت کیسی ہونی چاہیے اس حوالے سے ہر سیاسی جماعت کا ایک معاشی منشور ہوتا ہے۔ یہ معاشی منشور جماعت کی انتخابی مہم اور سیاسی جدوجہد کا عکاس بھی ہوتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے انتخابی منشور میں معیشت پر پالیسی اور مختلف اہداف کا اعلان کرتی ہیں، مگر ایک ہی سیاسی جماعت میں معیشت کو چلانے کے حوالے سے الگ الگ رائے اور طریقہ کار پایا جائے، ایسا ہونا یقینی طور پر غیر معمولی ہے۔
اس وقت حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں 2 معاشی بیانیوں کی گونج ہے۔ ایک طرف موجودہ وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کی پالیسی ہے جس کو ڈارنامکس کہا جارہا ہے تو اسی پالیسی کے خلاف چند روز قبل وزیرِ خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے والے مفتاح اسمٰعیل ہیں۔ ان کے معاشی نظریے کو مفتاح نامکس کا نام دیا جاسکتا ہے۔
بہت بے آبرو ہوکر۔۔۔
مفتاح اسمٰعیل خود کو وزارتِ خزانہ سے ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ اپنی تقریر میں مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ ان کے وزیر بنتے ہی یہ خبر آگئی تھی کہ اسحٰق ڈار کو وزیرِ خزانہ بنایا جائے گا مگر جب آئی ایم ایف کا پروگرام طے پاگیا تو مفتاح اسمٰعیل کو یہ امید ہوگئی کہ وزیرِاعظم انہیں ہی وزیرِ خزانہ رکھیں گے۔ چونکہ مفتاح اسمٰعیل نہ تو قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی وہ سینیٹر ہیں اس لیے انہیں 6 ماہ بعد وزیر کا عہدہ چھوڑنا ہی تھا۔ تاہم جس انداز سے اسحٰق ڈار نے مفتاح اسمٰعیل کی جگہ لی وہ واقعی آبرومندانہ طریقہ کار نہیں تھا۔
مفتاح اسمٰعیل اور اسحٰق ڈار کے درمیان معاشی پالیسی پر ہی اختلاف نہیں بلکہ یہ بھی محسوس ہوا کہ اسحٰق ڈار اپنی ہی جماعت میں ابھرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کے امیداوار سے خوفزدہ ہیں۔ اسحٰق ڈار نے مفتاح اسمٰعیل کو کُھل کر کام کرنے سے روکا اور ان کی جانب سے کیے جانے والے سخت معاشی فیصلوں پر اس طرح تنقید کی جیسے وہ اپوزیشن جماعت کا حصہ ہوں۔
مسلم لیگ (ن) نے اس مرتبہ جس طرح مفتاح اسمٰعیل اور شہباز شریف کی حکومت کو لندن سے آپریٹ کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ نہ تو وزیرِاعظم شہباز شریف اور نہ ہی سبکدوش ہونے والے وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی۔ مفتاح اسمٰعیل کو فیصلہ سازی میں ہر وقت لندن کی جانب دیکھنا پڑتا تھا اور انہیں جماعت کے اندر سے بھی سخت تنقید کا سامنا تھا۔ میری رائے میں سامنے تو مفتاح اسمٰعیل ہی وزیرِ خزانہ تھے مگر پس پردہ خزانہ کی وزارت اسحٰق ڈار ہی چلا رہے تھے۔
مفتاح اسمٰعیل نے بلاشبہ پاکستان کے مشکل ترین حالات میں وزارتِ خزانہ کو چلایا۔ 2017ء میں جب وہ وزیرِ خزانہ بنے تو اس وقت بھی معیشت کی حالت بہت اچھی نہیں تھی اور 2022ء میں بھی ملک پر نادہندہ ہونے کا خطرہ منڈ لارہا تھا۔ دنیا میں کوئی بھی پاکستان کو قرض دینے کو تیار نہیں تھا اور اسی لیے مفتاح اسمٰعیل ملک کو ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے سے بچانے کا سہرا اپنے سر لیتے نظر آتے ہیں۔
ان کے مطابق جب وہ وزیرِ خزانہ بنے تو ملک کے مجموعی زرِمبادلہ ذخائر 10 سے ساڑھے 10 ارب ڈالر تھے جبکہ مالی سال میں 35 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا تھیں۔ آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا اس لیے درآمدات پر پابندیاں لگا کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور آئی ایم ایف پروگرام بحال کروایا۔ زرِمبادلہ کو بچانے کے لیے انہوں نے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جن میں درآمدات پر کنٹرول شامل تھا۔ اس سے ملک کو مشکل ترین وقت میں سہارا ملا۔
ڈارنامکس پر مفتاح اسمٰعیل کا اعتراض
مفتاح اسمٰعیل کی جانب سے ڈارنامکس پر پہلا اعتراض اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو عائد کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جس کو مفتاح اسمٰعیل نے سٹے بازی یا جوا قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم جوا کھیلتے ہیں کہ ابھی مراعات دے دو بعد میں دیکھا جائے گا اور ہم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے یہی کیا۔ ابھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم ہوئے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک نجی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے اسحٰق ڈار کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے کے عمل کو جوا اور سٹا قرار دے دیا۔
مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ جب وہ آئی ایم ایف سے قرض کی بحالی کے لیے مذاکرات کررہے تھے تو آئی ایم ایف اراکین نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ قرض پروگرام کی بحالی اور قرض کی قسط جاری ہونے کے بعد حکومت ٹیکس نہیں بڑھائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔
مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی آمدنی بڑھانے کے لیے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی عائد کی جس میں آئی ایم ایف سے وعدے کے مطابق 800 ارب روپے ملنا تھے مگر اسحٰق ڈار کی جانب سے پیٹرولیم کی قیمت کم کیے جانے سے اب 600 سے ساڑھے 600 ارب روپے ہی موصول ہوں گے۔
مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ یہ معاشی فیصلہ ایسا ہے جیسا کہ لاٹری کے ٹکٹ کی خریداری۔ اسی لیے پاکستان کے حالات بد سے بدترین ہوتے جارہے ہیں کہ ابھی سبسڈی دے دو پھر دیکھا جائے گا اور یہی سلسلہ ہر حکومت میں جاری ہے۔
The Government broke the agreement with the IMF.#MiftahIsmail #IMF #ShehbazSharif pic.twitter.com/rIIkplLVZb
— Daily News Beat (@dailynewsbeatpk) October 2, 2022
اسحٰق ڈار کیا سوچتے ہیں؟
دوسری طرف موجودہ وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے مفتاح اسمٰعیل کی اس بات کا بہت بُرا منایا کہ انہوں نے عوامی سطح پر ایسی بات کیوں کی۔ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ انہیں آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے کا پرانا تجربہ ہے اور وہ مفتاح اسمٰعیل کو ایک نہیں 3 ایسے طریقے بتاسکتے ہیں جس سے مفتاح اسمٰعیل آئی ایم ایف کو منا سکتے تھے اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حکام بات مان بھی جاتے۔
میری نظر میں اسحٰق ڈار کی جانب سے آئی ایم ایف کو ڈیل کرنے کا تجربہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں بلکہ قابلِ افسوس مقام ہے کہ وہ کتنی مرتبہ آئی ایم ایف میں گئے مگر معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر وہ مفتاح اسمٰعیل کو آئی ایم ایف کے لیے 3 حل بتا سکتے تھے تو یہ حل اس وقت کیوں نہیں بتائے جب مفتاح اسمٰعیل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھا رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اتنی غیر مقبول ہوئی کہ پنجاب سے نہ صرف نشستیں کھو بیٹھی بلکہ ان کے ہاتھ سے صوبائی حکومت بھی نکل گئی۔
آئی ایم ایف کو اب میں نے ہینڈل کرنا ہے مفتاح اسماعیل نے ہینڈل نہیں کرنا وہ آئی ایم ایف کی فکر چھوڑ دیں اب میں جانوں اور آئی ایم ایف جانے pic.twitter.com/U4VGAamf5S
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) October 3, 2022
