کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 5 برآمدی شعبوں کیلئے یکم اکتوبر سے فی یونٹ بجلی کی قیمت 19روپے 99 پیسے مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہوا جس میں 5 برآمدی شعبوں کے لیے بجلی کی قیمت کی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مارچ سے قبل مؤثر حفاظتی انتظامات کے لیے 41 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی گئی اور گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد کے لیے 9 ہزار سے ساڑھے 10 ہزار روپے فی ٹن قیمت کے باوجود شرائط میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان بھر میں یکم اکتوبر سے 30 جون 2030 تک 19.99 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ کے حساب سے علاقائی مسابقتی بجلی کے ٹیرف (آر سی ای ٹی) کو جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے جس میں ٹیکسٹائل، چمڑا، پٹ سن اور سرجیکل اور کھیلوں کے سامان سمیت 5 برآمدی شعبے شامل ہیں۔
برآمدی شعبے کو سستی بجلی دینے سے حکومت سالانہ 100 ارب روپے کی سبسڈی اٹھائے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن کو گندم کی درآمد تیز کرنے کی ہدایت کردی اور کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کامعاملہ مؤخر کردیا۔
