راولپنڈی سے فلسفے کے استاد ابوبکر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم سیل نے زیرِ حراست لے لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سائبر کرائم سیل نے ابوبکر کو حراست میں لیا ہے۔ فیسبک پر ان کی آخری پوسٹ 14 اکتوبر کو ان کے اکاؤنٹ سے کی گئی تھی جو کسی گانے کے بول دکھائی دیتے ہیں۔
کمیشن برانے انسانی حقوق، پاکستان نے ایک ٹوئیٹ میں ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابوبکرم جو کہ راولپنڈی میں واقع ایک کالج میں فلسفے کے استاد ہیں، انہیں FIA کے سائبر کرائم سیل نے زیرِ حراست لیا ہے۔ ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ابوبکر کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام چارجز بھی فی الفور ختم کیے جائیں۔
ابوبکر فیسبک پر خاصے سرگرم رہتے ہیں اور ان کی پوسٹس پر بڑی تعداد میں لوگ ان سے انگیج کرتے ہیں۔ ان کی پوسٹس میں اکثر شاعری، فلسفے، بائبل اور اسلامی تاریخ سے حوالہ جات ہوتے ہیں۔ ان کی حسِ مزاح کے بھی ان کے فیسبک دوست معترف نظر آتے ہیں۔
