اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالاکبر چترالی نے تمام اداروں پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہیں اور کسی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ بلوچستان سمیت ملک بھر سے ملنے والی نعشوں کے معاملے کی تحقیقات کروائی جائیں۔
انہوں نے بدھ کو ایوان میں بلوچستان کے عوام بالخصوص بی این پی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل سے اظہاریکجہتی کیا ۔ اجلاس ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی صدارت میں ہوا۔ سردار اخترمینگل نے بلوچستان کے علاقوں زیارت، آوارن اور مستونگ میں مختلف اوقات میں24نعشیں ملنے کا معاملہ اٹھایا، تمام جماعتوں نے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کے مطالبہ کی حمایت کردی ہے ۔
مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا عوام غیر محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کے لئے رات کو عدالت کھل سکتی ہے کیا عام آدمی کی جان کی حفاظت کے لئے انصاف کا نظام کچھ نہیں کرسکتا ۔ جنہوں نے ملک کو لوٹ کر دولت باہر منتقل کی ان سے متعلق کیس بھی ویسے کا ویسا پڑا ہے۔ مجرم سزا سے بچ رہے ہیں ۔ مرکز اور پنجاب آپس میں لڑرہے ہیں۔ عوام کے مسائل کیسے حل ہونگے ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کہہ رہا ہے کہ مرکزی حکومت 26کلومیٹر کی حدود میں ہے۔ جب مرکز اور ایک صوبہ آمنے سامنے ہو ں امن کیسے آسکتا ہے ۔ مسائل کے حل کا کوئی میکانزم نہیں ہے۔ بس سیاست چل رہی ہے ۔ ملک ایسے ترقی نہیں کرتے ۔تمام اداروں کو چاہیے اپنی آئینی حدودمیں رہیں کسی اور ادارے کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ ہم نے پارلیمینٹ کو مضبوط کرنا۔
