اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ارشد شریف کو یو اے ای سے نکالنے کے لئے کوئی خط نہیں لکھا،پاک کینیا کے مابین باہمی قانونی تعاون کا معاہدہ موجود نہیں ،تحقیقاتی ٹیم پہنچ کر اپنا کام شروع کر دیگی۔
عاصم افتخار نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیری عوام کا اپنے مستقبل کا فیصلہ انکا جائز حق، صورتحال کی بہتری کے لئے بھارت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صحافی ارشد شریف کے انتقال پر بہت دکھ ہوا، پاکستان ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لئے کینیا کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستانی انکوائری کمیٹی کینیا کے دورے پر ہے، پاکستانی ہائی کمیشن انکوائری کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور اسکونت فراہم کررہی ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ یہ کافی حساس مسئلہ ہے اس پر احتیاط برتنی چاہیے، دو رکنی تحقیقاتی ٹیم کینیا روانہ ہوگئی ہے، ٹیم نیروبی پہنچ کر اپنی تحقیقات کا آغاز کردے گی، میرے پاس تحقیقات کے حوالے سے ابھی تک تفصیلی معلومات نہیں ہیں۔ پاکستان اور کینیا کے مابین باہمی قانونی تعاون کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔
انکا کہنا ہے کہ پاکستان نے ارشد شریف کو یو اے ای سے نکالنے کئے کوئی خط نہیں لکھا، وزیر خارجہ کے دستخط سے اس قسم کا کوئی خط جاری نہیں ہوا، ایسے اطلاعات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
