شرم الشیخ: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اونتونیو گوتریس نے عالمی برادری پر ایک مرتبہ پھر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی بھرپور امداد یقینی بنائے۔پاکستانی عوام کی افغان مہاجرین کی میزبانی ناقابل فراموش ہے، اس وقت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے قرضوں میں چھوٹ دیں ۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں ۔سیلاب سے نقصانات کا تازہ ترین تخمینہ30 ارب ڈالر ہے ، عالمی برادری آگے بڑھے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے ۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شرم الشیخ میں مشترکہ نیوزکانفرنس کے دوران کیا۔ یو این سیکرٹری انتونیو گوتریس نے اس موقع پر کہا کہ سیلاب کی اس مشکل گھڑی میں پاکستان عالمی امدا د کا منتظر ہے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ سیلاب کے بعد پاکستان کا دورہ کیا لوگوں سے ملاقاتیں کیں ۔ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے روزگار سمیت سب کچھ تباہ ہو گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی افغان مہاجرین کی میزبانی ناقابل فراموش ہے اس وقت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے قرضوں میں چھوٹ دیں پاکستان کو اس مشکل سے نکالنے میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرپاکستان ہوا ہے ۔ حالیہ سیلاب سے آدھے سے زیادہ پاکستان پانی میں ڈوب چکا ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے نقصانات کا تازہ ترین تخمینہ30 ارب ڈالر ہے ۔انہوں نے اپیل کی کہ عالمی برادری آگے بڑھے اور پاکستان کی اس مشکل گھڑی میں ساتھ دے۔
