English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترک معارف فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام "دوسری استنبول ایجوکیشن سمٹ" ختم

القمر

ترک معارف فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اور ٹی آر ٹی  کمیونیکیشن  کے توسط سے 7 ممالک کے وزرائے تعلیم اور دنیا کے ماہر تعلیم حکام کو یکجا کرنے  والی کانفرنس  جس کا موضوع "اسکول کا مستقبل،  وبائی مرض کے بعد تعلی ضروریات "تھا  ،  استنبول ایجوکیشن سمٹ اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔  باعلر باشی کنونشن اینڈ کلچر سینٹر میں منعقدہ سمٹ کے دوسرے اور آخری روز  کے پہلے سیشن میں، "کووڈ جنریشن کا مستقبل” اور  دوسرے سیشن میں  ” ایک دوسرے سے مختلف تعلیم” پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سربراہی اجلاس کے آخری سیشن میں "تعلیم میں متبادل تلاش” پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ استنبول میڈینیئت یونیورسٹی فیکلٹی ممبر ایسوسی ایٹ پروفیسر  ڈاکٹر س عمر  اوواجی  کی نگرانی  میں   ہونے والے سیشن EdX بزنس  ڈویلپمنٹ کے صدر جان شوارٹز، کورسیرا فار کیمپس گلوبل ہیڈ سکاٹ شیرمین، مرمرہ ا یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر پروفیسر ڈاکٹر کمال سیار، پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر آف ایجوکیشنل سوشیالوجی اینڈ ٹیچر ایجوکیشن سید منیر احمد اور افریقن ڈویلپمنٹ یونیورسٹی کے صدر قادر کنائی نے مقررین کے طور پر شرکت کی۔

” امیر لوگوں اور  نہ موجود  لوگوں  درمیان فرق کو ختم کر رہے ہیں "

تعلیمی نظام کووڈ-19 کی وبا کے ساتھ اچانک ایک ورچوئل ایجوکیشن ماڈل میں تبدیل  ہونے کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہوئے ، EdX بزنس ڈویلپمنٹ کے صدر جان شوارٹز نے کہا کہ  اس طرح بہت  بڑی تعداد میں افراد تک  رسائی حاصل کی جاسکی ہے۔

شوارٹز نے اپنے خطاب میں کہا کہ  اگر میں یہاں  یہ کہوں کہ ہاورڈ اور ایم آئی ٹی میں  دیئے گئے   درس اگر   پوری  دنیا میں مفت دینا شروع کردیں تو   آپ کیا  کہیں گے؟ زندگی بھر ہم ایکو سسٹم   سے متعلق دنیا کو  وافر کرواتے رہتے ہیں بالخصوص    ایسی اعلی درسگاہوں میں داخلہ لینے والے ذہین اور امیر  اور  اس کے مد مقابل  غریب اور کم عقل طلبا کے درمیان  کی خلیج ہٹانے میں مدد کرتے ہیں۔ دور حاضر میں تعلیمی نظام  کو اس کےمطابق ڈھالنے اور ذریعہ بنانے کی ضرورت ہے ۔

  گھر سے تعلیمی    درسگاہوں سے حاصل کردہ رو برو تعلیم سے مختلف ہے ،اس پر شوارٹز کا کہنا ہے کہ  میں نے خود سے یہ سوال بارہا پوچھا اور اس کا متبادل جواب  ہاں میں نکلا۔ تین ہفتوں کے دوران  لاکھوں طلبا نے ایک بٹن کی مدد سے تمام درس  و تدریسی سرگرمیاں پوری کیں،وبا کے دوران ہم نے اس کی اہمیت اجاگر کی  ،البتہ اس پر ناک بھوں چڑھانے والے بھی کم نہیں تھے ، اس  نظام کوکیسے فروغ دیا جائے اس بارے میں بھی کوئی خیال موجود نہیں تھا لیکن  وبا ایک بری چیز  ہونے کے باوجود ہم نے    آن لائن تدریسی عمل کا دامن نہیں چھوڑا ۔

” آن لائن تعلیم متعدد پہلووں سے ایک اچھا ذریعہ تعلیم ہے”

‘کورسیرا فار کیمپس گلوبل’ کے سربراہ ‘سکاٹ شرمین’ نے  آن لائن تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا  کہ "آن لائن تعلیم متعدد پہلووں سے ایک اچھا ذریعہ تعلیم  ہے۔ پہلے تو یہ کہ تعلیم کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یونیورسٹی طالبعلموں کے لئے بھی مفید ہے کیونکہ آپ کو ایک ایسی لچک فراہم کرتا ہے کہ جو قبل ازیں آپ کو میسر نہیں تھی۔ آن لائن تعلیم بعض فوائد کی حامل ہے۔مثلاً اس کے بعض سسٹم بالمشافہ تعلیم کے مقابلے میں طالبعلموں کی زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس وقت ہم اسے طالبعلم کو مرکز میں رکھنے   والے ایک ایسے سسٹم کی شکل میں ترقی دے رہے ہیں کہ جو بالمشافہ بھی اور آن لائن بھی ہر دو شکل میں مفید ہو گا”۔

سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں ترکیہ معارف وقف کی طرف سے  منعقدہ تیسرے بین الاقوامی معارف فوٹو گرافی مقابلے میں درجے پر آنے والے طالبعلموں میں  انعامات تقسیم کئے گئے۔ مقابلے میں پاکستان سے شجر زہرا نے پہلا، برونڈی سے رانیہ حسن  نے دوسرا اور  افغانستان سے مصطفیٰ رجبی نے تیسرا انعام حاصل کیا۔ ترکیہ معارف وقف   بورڈ آف ٹرسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر برول آق گیون نے  کامیاب طالبعلموں میں انعامات تقسیم کئے۔

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے