اقوام متحدہ نے ایرانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے سزائے موت کو آلہ کار نہ بنائیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 16 ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں 29 اکتوبر کو 8 افراد کو سزائے موت دیے جا سکنے پر مبنی فرد جرم عائد کی گئی ہے جس میں ’دنیا میں فساد برپا کرنے‘ کا الزام بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام کو ملک گیر مظاہروں کا سر کچلنے کے لیے سزائے موت کو ایک مہرے کے طور پر استعمال نہ کا انتباہ دیے جانے والے اس بیان میں زیر حراست مظاہرین کو رہا کرنے کی اپیل کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کو مکمل طور پر روکنے کے لیے سزائے موت صادر کی جا سکنے والی فرد جرم بناتے ہوئے انہیں قلیل مدت میں سزا دیے جانے کا احتمال پایا جاتا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کی صف اول میں شامل دوشیزاوں اور خواتین تفریق بازی کے قوانین ، پالیسیوں اور عمل درآمد کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں ، جنہیں اس مطالبے کو ایک جرم ہونے کی پاداش میں جیل میں بند کیا جا رہا ہے ، ہمیں انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف سخت گیر کاروائیاں کرنے کی تشویش لا حق ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 16 ستمبر سے اب تک ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین اور نوجوان شامل ہیں اور ان میں سے 14 افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور کچھ قیدِ تنہائی میں ہیں۔
مظاہروں کے خلاف جبری کاروائیاں جاری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کاروائیوں کے دوران کم از کم 304 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 24 خواتین اور 41 بچے شامل ہیں۔
