کیا آپ کو معلوم ہے کہ ترک اساطیر میں ‘بھیڑئیے’ کو ایک خاص مفہوم حاصل ہے؟
اگرچہ بھیڑئیے کی شبیہ دیگر ممالک کے اساطیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے لیکن بات ترکوں کی ہو تو بھیڑیا ترک ملت کی علامت شمار ہوتا ہے۔
ترک داستانوں میں بھیڑیا کہیں نسل کے دوام کی علامت کے طور پر ، کہیں ترک ملت کو بچانے والے ہیرو کے طور پر اور کہیں ترکوں کو راستہ دِکھانے والے رہبر کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ ترکوں کے اعتقاد کے مطابق بھیڑیا ایک مقدس اور متبّرک جانور ہے۔
ترک افسانوں میں بطور ایک مقدس تخلیق کے پہچانے جانے والے اس جانور کو ترکوں نے اپنے سے اس قدر منسوب کر رکھا ہے کہ یہ جانور ان کے لئے ماں اور اجداد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ازمنہ قدیم سے ترکوں کے اس جانور کو مقدس خیال کرنے اور اپنی قومی علامت قبول کرنے کی اہم ترین وجہ ترکوں کے بھیڑئیے کی نسل سے منسوب ہونے کا افسانہ ہے۔ یہ جانور طاقت، چُستی، آزادی، برق رفتاری اور فطرت کی نمائندگی کرتا ہے اور خیال کے مطابق اپنے ان خصائص کے ساتھ ترکوں کے کردار کا عکاس ہے۔ عالمِ ترک کے مختلف مقامات پر چٹانوں یا پھر قبروں کے کتبوں پر ‘ دیوتا بھیڑئیے’ کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاریخ بھر میں ترک حکومتوں میں بھیڑئیے کی شبیہ کو مُہروں، جھنڈوں اور کرنسی پر جگہ دی جاتی رہی ہے۔
جمہوریہ ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے بھی اسے ترکیہ کی قومی علامت قرار دیا اور جمہوریت کے ابتدائی سالوں میں بھیڑئیے کی شبیہ والی ٹکٹیں اور کرنسی بھی چھاپی گئی۔
