ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ عراق اور شام کے شمال میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے خلاف جاری’ پنجہ۔کلید فضائی آپریشن ‘صرف فضائی آپریشن تک ہی محدود نہیں رہے گا۔
دورہ قطر سے واپسی پر صدر ایردوان نے طیارے میں ایجنڈے کے موضوعات کا جائزہ لیا۔
عراق اور شام کے شمال میں جاری "پنجہ۔کلید فضائی آپریشن ” کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ” یہ جو میں ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ ‘کسی رات ہم اچانک آ سکتے ہیں’ بلاوجہ نہیں کہہ رہا۔ کیونکہ طے شدہ اور پلان شدہ گھڑی آنے پر یہ قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ کل رات کا آپریشن مکمل معنوں میں اس کا اظہار تھا”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ پنجہ۔کلید آپریشن بھی محض فضائی آپریشن تک محدود نہیں رہے گا۔ ہماری وزارت دفاع اور جنرل ہیڈ کوارٹر مل کر فیصلہ کریں گے۔ ہم صلاح مشورہ کریں گے اور اس کے مطابق قدم اٹھائیں گے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس قدم کے بارے میں ہم نے امریکہ کے صدر جو بائڈن یا پھر روس کے صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کئے۔ لیکن صدر بائڈن اور صدر پوتن دونوں ہی جانتے ہیں کہ ہم مذکورہ علاقے میں کسی بھی وقت اس نوعیت کی کاروائی کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً ہمارا یہ کہنا کہ ‘ہم کسی روز اچانک آ سکتے ہیں ‘ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم کسی کی اجازت کے مطابق نہیں چل رہے۔ اگر ہم نے کوئی قدم اٹھانا ہو گا تو اس کا فیصلہ ہم کریں گے اور اس فیصلے کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ اس بات کو اب امریکہ کا جان لینا ضروری ہے ۔ ہو سکتا کہ جانتا بھی ہو۔ اب کے بعد کے مرحلے میں انشاءاللہ سب دیکھ لیں گے کہ ہم مزید اہم قدم کیسے اٹھاتے ہیں”۔
