احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت اس کیس پر ہمارا دائرہ اختیار نہیں بنتا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس میں وزیرخزانہ سمیت دیگر تین ملزمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگی رہنما اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے میں احتساب عدالت کا کہنا تھا کہ ترمیمی ایکٹ کے بعد اس کیس پر دائرہ اختیار نہیں۔ ترمیمی ایکٹ کے بعد بریت کی درخواستوں پر فیصلہ بھی ہمارےدائرہ اختیار سے باہر ہے ۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ نہ ہم نیب، نہ ہی ملزمان کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار کے خلاف جاری ٹرائل یہیں ختم کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس نیب کو واپس کردیا۔
ریفرنس میں اسحاق ڈار، سسعید احمد، نعیم محمود اور منصور رضارضوی نامزد تھے اور عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے اسحاق ڈار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف دسمبر 2017 میں ریفرنس دائر کیا گیا ، ریفرنس میں تفتیشی افسر سمیت 42 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس کے تفتیشی افسر نادر عباس تھے۔
