English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا اور بخار کے کیسز میں اضافہ، کیا چین حریف ملک بھارت سے ادویات درآمد کرے گا؟

دنیا کے سب سے بڑےادویات بنانے والےملکوں میں شامل بھارت نے چین کو بخار میں دی جانے والی ادویات کی برآمد کی پیش کش کی ہے۔

بھارت ایسے وقت میں چین کوبخارمیں دی جانے والی دواؤں کی برآمدات بڑھانے کے لیے تیار ہے جب بیجنگ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے سے دوچار ہے جب کہ حالیہ عرصے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کشیدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

ادویات برآمد کرنے والے ایک بھارتی ادارے کے سربراہ کے مطابق چین میں رواں ماہ کے شروع میں چین کے کرونا وائرس سے متعلق سخت ضوابط میں اچانک نرمی کے بعد بخار کی دوائیوں اور وائرس ٹیسٹ کٹس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ایسے حالات میں چین میں دکانوں نےبخار سے نجات کی ادویات اور اشیا کی خریداری کی حد مقرر کردی ہے جب کہ ادویات بنانے والی چینی کمپنیا ں بھی پیداوار بڑھا رہی ہیں۔


چین کے شہر ووہان میں ایک شہری ایک بند دکان کے سامنے سے گزر رہا ہے۔ چین رفتہ رفتہ کرونا وائرس کی پابندیاں نرم کر رہا ہے لیکن نئی وبا کی نئی لہر آنے کا خدشہ موجود ہے۔ 10 دسمبر 2022

چین کے شہر ووہان میں ایک شہری ایک بند دکان کے سامنے سے گزر رہا ہے۔ چین رفتہ رفتہ کرونا وائرس کی پابندیاں نرم کر رہا ہے لیکن نئی وبا کی نئی لہر آنے کا خدشہ موجود ہے۔ 10 دسمبر 2022

فارماسیوٹیکل ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا کے چیئرمین ساحل مونجال نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ اس وقت چین کو ‘پیراسیٹامول’ اور ‘آئبوپروفین’ کی کمی کا سامنا ہے جن کی مانگ بہت زیادہ ہے۔

ان کے بقول مارکیٹ کی صورتِ حال اس وقت یہ ہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیوں کے پاس بڑے پیمانے پر آرڈرز آ رہے ہیں اور وہ ‘آئبوپروفین’ اور ‘پیراسیٹامول’ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔

تاہم چین کی جانب سے ادویات درآمد کرنے کی بھارت کی پیش کش پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

‘رائٹرز’ کے مطابق نئی دہلی میں چین کے سفارت خانے نے تبصرہ کی درخواست کرنے والی ای میل کا جواب نہیں دیا۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک، جو دنیا میں سب سے زیادہ جنیرک ادویات بنانے والوں میں سے ایک ہے، چین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ "ہم چین میں کرونا وائرس کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ہم نے ہمیشہ عالمی فارمیسی کے طور پر دوسرے ممالک کی مدد کی ہے۔”

فارما سیوٹیکل کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 22-2021 میں چین کے لیے بھارت کی فارما سیوٹیکل مصنوعات اس کی مجموعی برآمدات کا صرف 1.4 فی صد تھیں۔


بھارت نے کابل میں اندرا گاندھی اسپتال کو دو ٹن ادویات کا عطیہ دیا ہے۔

بھارت نے کابل میں اندرا گاندھی اسپتال کو دو ٹن ادویات کا عطیہ دیا ہے۔

امریکہ بدستور بھارت کی تیار کردہ ادویات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران کووڈ نائنٹین کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات کی وجہ سے بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے حصص نیفارم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی معلومات پر مبنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے