ترکیہ میں اندرونِ ملک انسدادِ دہشت گردی پروگرام کے دائرہ کار میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے خلاف ایرن محاصرہ آپریشنوں کا سلسلہ جاری ہے۔
موسم سرما آپریشنوں کا 19 واں آپریشن ضلع شرناک میں شروع کردیا گیا ہے۔
آپریشن میں 470 سکیورٹی اہلکار اور 39 آپریشنل ٹیمیں شامل ہیں۔ آپریشن کے دوران شرناک کے علاقے ‘بستلر دیرے لر’ میں 2 غاروں ا ور 10 پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
آپریشنوں میں 2 ریموٹ کنٹرول اور 3 دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
تحویل میں لئے گئے سامان کو ناکارہ اور غاروں اور پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف سرحد پار انسدادِ دہشت گردی آپریشنوں میں شام کے شمال میں چشمہ امن آپریشن کے علاقے پر حملے کے لئے تیار PKK/YPG کے 2 دہشت گردوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
ترکیہ وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ” دہشت گردوں کا انجام طے ہے اور دہشت گرد اس انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔ شام کے شمال میں آپریشن چشمہ امن کے علاقے پر حملے کے لئے تیار PKK/YPG کے 2 دہشت گردوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے”۔
دوسری طرف تنظیم سے مفرور مزید 2 دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کو گرفتاری پیش کر دی ہے۔
مذکورہ دہشت گرد 1993 میں دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوئے اور عراق اور ایران میں تخریبی کاروائیاں کرتے رہے۔
ان تازہ گرفتاریوں کے بعد 2022 میں قائل ہو کر گرفتاری پیش کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد 124 ہو گئی ہے۔
