کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کا طویل ترین پتھر کا پُل ترکیہ میں پایا جاتا ہے؟
ترکیہ کے یونان اور بلغاریہ کے ساتھ سرحدی شہر ایدرنے کے دریا ایرگینے پر 15 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا ‘اوزون کھوپرو’نامی پُل دنیا کے طویل ترین پتھر کے پُل کا عنوان رکھتا ہے۔ ‘اوزون کھوپرو’ کو سلطنت عثمانیہ کے چھٹے بادشاہ ‘ سلطان مراد دوئم نے 1427 سے 1443 کے سالوں میں تعمیر کروایا۔ 1270 میٹر سے زائد لمبائی اور 174 محرابوں کے ساتھ’ اوزون کھوپرو’ موجودہ دور تک پہنچنے والا دنیا کا طویل ترین سنگی پُل ہے۔
چُونا پتھر اور ٹراورٹائن قسم کے پتھروں کے تراشیدہ بلاکوں کے ساتھ تعمیر کیا گیا یہ پُر شکوہ پُل ، وسطی ایشیاء سے بالقان تک کے وسیع جغرافیے میں مختلف ثقافتوں کو اپنی آغوش میں لینے والی، سلطنت عثمانیہ کے فنّی ذوق کے عکاس ڈیزانوں کا بھی حامل ہے۔ پُل کے پائیوں اور محرابوں کے اوپر طاقت اور قوت کی نمائندہ بعض حیوانی شبیہیں بھی نقش ہیں، ان حیوانی شبیہوں میں سے ایک شیر کی شبیہ ہے اور اس کے پیچھے چاند کی نمائندہ عورت کے چہرے کی شبیہ ۔ اس کے علاوہ پُل پر طاقت اور لمبی عمر کے نمائندہ ہاتھی کی شبیہ بھی پائی جاتی ہے۔
اس یاد گار پُل کے پائیوں کی لمبائی، درمیانی فاصلے اور ان پائیوں کے درمیان محرابوں کی گولائی ایسی مہارت سے طے کی گئی ہے کہ اپنی طوالت کے باوجود یہ پُل 6 صدیوں سے ہر طرح کے موسمی حالات کے مقابل سینہ تانے کھڑا ہے۔ پُل آج بھی زیرِ استعمال ہے۔ پُل کے ساتھ اڑھائی میٹر بلند ،ساڑھے چار میٹر چوڑی ، تکون شکل کی اور 2 بالکنیوں والی ایک تاریخی حویلی بھی پائی جاتی ہے۔ اوزون کھوپرو کو 2015 میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا اور تب سے پُل کو نقصان سے بچانے کے لئے بھاری گاڑیوں کا پُل سے گزرنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
