کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اہل کراچی شہر میں امن و امان، تحفظ، مسائل کا حل اور اپنا جائز اور قانونی حق چاہتے ہیں،مسلح ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے محکمہ پولیس میں کراچی کے مقامی باشندوں کو بھرتی کیا جائے۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کی استر کاری کے لیے مختص بجٹ میں کرپشن و نااہلی ختم کی جائے، وفاقی و صوبائی حکومتوں کی نا اہلی و کرپشن اور حکمران پارٹیوں کی اقتدار کی ہوس اور سیاسی بندر بانٹ نے شہر کو تباہ و برباد کیا ہے اور آج بھی حکومتی عہدوں کے لیے عوامی مینڈیٹ اور کراچی کے مفادات کو پس پشت ڈال کر سودے بازی کی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ مردہ گھوڑوں میں جان ڈالنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کے التواء سے باز رہا جائے اور 15جنوری کو انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرز کو تعینات کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی‘ صوبہ سندھ کے بجٹ کو تقریباً 95فیصد حصہ فراہم کرتا ہے لیکن گزشتہ 14برس میں سندھ حکومت نے کراچی کا عملاً کوئی پروجیکٹ اور منصوبہ مکمل نہیں کیا۔ اس عرصے میں تقریباً 6ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا جو کہاں خرچ کیا گیا کسی کو معلوم نہیں؟ سندھ حکومت کو اس کا حساب دینا ہو گا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور پورے صوبے و ملک کو چلانے والے شہر میں عوام کوباعزت ٹرانسپورٹ مسیر نہیں، سندھ حکومت 14سال میں صرف چند بسیں ہی لائی جس سے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل نہیں ہوئے، 6سال میں ایک گرین لائین منصوبہ بنایا گیا جو تاحال ادھورا ہی چل رہا ہے جبکہ اورنج لائین منصوبہ سندھ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

