ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے مژدہ سنانے کے بعد بحیرہ اسود میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کا موضوع عالمی ذرائع ابلاغ کے ایجنڈے پر آ گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ نے ” ترکیہ کے بحیرہ اسود قدرتی گیس ذخائر میں میگا اضافہ” کی سرخی سے گیس دریافت کا اعلان کیا ہے۔
بلومبرگ نے کہا ہے کہ ترکیہ کے بحیرہ اسود گیس ذخائر اندازوں سے ایک تہائی زیادہ ہو گئے ہیں اور ایسا موجودہ اور دیگر فیلڈوں میں تلاش کاروائیوں کی بدولت ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے رائٹرز نے دریافت کے ساتھ قدرتی گیس کے حجم کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ نے سقاریہ گیس فیلڈ میں 13 کنوئیں کھولے ہیں۔ یہ فیلڈ، 2023 میں فعال کر کے قومی نیٹ ورک سے منسلک کر دی جائے گی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شین خوا نے "ترکیہ میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر” کی سرخی سے صدر ایردوان کے اس بیان کو شائع کیا ہے کہ "ہم ترکیہ کو ،بحیرہ کیسپین، بحیرہ روم اور مشرقی وسطیٰ کا، انرجی مرکز بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں” ۔
قدرتی گیس کے مژدے کی بازگشت یونانی اخباروں میں بھی سُنائی دے رہی ہے۔
یونان کے روزنامہ خاتمیرینی نے بھی خبر کو صدر ایردوان کے الفاظ کی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔
” ہم نے بحیرہ اسود میں 58 بلین مکعب میٹر حجم کے نئے قدرتی گیس ذخائر دریافت کئے ہیں” کی سرخی کے ساتھ خبر میں کہا گیا ہے کہ ” ترکیہ کے صدر نے بحیرہ اسود میں قابلِ ذکر مقدار میں قدرتی گیس کی دریافت کا ذکر کیا ہے”۔
روزنامہ "ٹو ویما” نے خبر پر ” صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ کا مقصد اپنی گیس ضروریات کو خود پورا کرنا ہے” کی سرخی لگائی ہے۔
اخبار نے گیس کے کُل 710 بلین مکعب میٹر ذخائر کی قدر کے ایک ٹریلین ڈالر ہونے پر بھی زور دیا ہے۔
