معروف فٹبالر رونالڈو کے بارے میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے بیان کی گونج پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں سُنائی دے رہی ہے۔
پرتگال سے اٹلی تک بہت سے ممالک کے اخبارات نے صدر ایردوان کے رونالڈو کے ساتھ تعاون کو اپنے قارئین تک پہنچایا ہے۔
برطانوی اخبار’ ڈیلی میرر ‘نے صدر ایردوان کے بیان سے "رونالڈو پر سیاسی پابندیاں لگائی گئی ہیں” کے الفاظ کو سرخی بنایا ہے۔
اطالوی اخبار ‘ کورئیر ڈیلا اسپورٹ’ نے صدر ایردوان کے اسپورٹس مین دور کی یاد دہانی کروائی اور ان کے ان الفاظ کو مرکزِ توجہ بنایا ہے کہ "رونالڈو فلسطینیوں کے دعوے کا حامی ہے ” ۔
پرتگال کے اخبار "آبولا ” نے کہا ہے کہ "رونالڈو کو ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا تعاون حاصل ہے”۔
روزنامہ ‘مارجا’ نے صدر ایردوان کے الفاظ کہ "رونالڈو پر سیاسی پابندیاں لگائی گئی ہیں” کی سرخی لگائی اور کہا ہے کہ ” ترکیہ کے صدر نے پرتگال کے اسٹار فٹبالر کا دفاع کیا ہے”۔
واضح رہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے ترکیہ کے ضلع ارض روم میں نوجوان کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ "رونالڈو کو ضائع کر دیا گیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لیونارڈو پر سیاسی پابندی لگائی گئی ہے۔ اس جیسے فٹبالر کو میچ کے دوسرے ہالف میں 15 منٹ یا آدھے گھنٹے تک کھیلایا جانا اس کی نفسیاتی صحت اور توانائی دونوں کا قاتل ثابت ہوا ہے۔ رونالڈو فلسطینیوں کے دعوے کا حامی فٹبالر ہے”۔
