ویب ڈیسک —
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 کی اپنی شکست کا الزام غلط طور پر ووٹنگ میں جعلسازی پر عائد کیے جانے کے بعد ملک بھر کے ریاستی قانون سازوں نے الیکشن لڑنے کے طریقوں میں تبدیلی کے ہزاروں بل متعارف کرائے اور سینکڑوں بل قانونی شکل اختیار کر گئے ۔ اگلا سال ووٹنگ قوانین میں تبدیلیوں کی خواہاں ریاستی اسمبلیوں کے لیے ایک اور مصروف سال بن رہا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کی انتخابات سے متعلق جھوٹے الزامات کے حامیوں نےاس سال کے وسط مدتی انتخابات میں قدرے کامیابی حاصل کی ، تاہم ووٹنگ کی بحث سے متعلق دونوں جانب کے حامی انتخابات سے منسلک قانون سازی کے ایک اور مرحلے کی تیاری کررہے ہیں۔
ری پبلکنز انتخابی ضابطے مزید سخت کرنا چاہتے ہیں جب کہ ڈیمو کریٹس ، جنہوں نے دو اور ریاستوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ، ووٹ ڈالنے کے طریقے کو آسان بنانے کی کوشش کریں گے۔
منی سوٹا کے دوبارہ منتخب ہونے والے ڈیمو کریٹک وزیر اسٹیو سائمن نے کہا ہے کہ انہوں نے کئی ریاستی وزراءسے بات کی ہے جو ووٹنگ میں تبدیلیوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرز نے اس منصب اور دوسرے تمام مسائل کے بارے میں کھل کر اور بھرپور طریقے سے بات کی ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کیا نہیں چاہتے ۔

یوں تو امریکی ریاستیں ووٹنگ کے اپنے قوانین میں معمول کے مطابق چھوٹی بڑی تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں۔ لیکن قانون سازی پر نظر رکھنے والے ایک گروپ ، ووٹنگ رائٹس لیب کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نےقانون سازی کی اتنی بہتات پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی جتنی 2020 کے صدارتی انتخابات کے بعد ہوئی جب 3600 سے زیادہ انتخابی بل متعارف کرائے گئے۔
گروپ کی سینئیر ایڈوائزر لز ایوور نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں 22 ریاستوں نے بیلٹ تک رسائی کو بڑھایا ہے ، 10 نے نئی پابندیاں تشکیل دی ہیں اور پانچ نے دوسری رکاوٹیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بیلٹ تک رسائی کو کچھ طریقوں سے بڑھایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے اس طرح امریکہ میں ایک نئی تقسیم پیدا ہو گئی ہے جس میں آپ کا زپ کوڈ ہماری جمہوریت کی جانب آ پ کی رسائی متعین کرے گا۔
قانون ساز جنوری تک اجلاس نہیں کریں گے اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے بل ڈرافٹ کیےجا چکے ہیں اور کن کن موضوعات پر۔ لیکن ریاست ٹیکساس جہاں قانو ن ساز ہر دو سال میں صرف ایک بار اجلاس کرتے ہیں اور قانون ساز آنے والے سیشن کے لیے قانون کے مسودے پہلے سے تیار کر سکتے ہیں ، ایک پیشگی جائزہ فراہم کرتی ہے ۔

ایسو سی ایٹڈ پریس نے انتخابات سے منسلک لگ بھگ 100 تجاویز کی نشاندہی کی ہے جو ریاست ٹیکساس میں پہلے ہی فائل ہو چکی ہیں۔ ان میں بیلٹ باکس تک رسائی میں اضافہ اور اسے مزید محدود کرنا ، دونوں شامل ہیں۔ اس میں وہ تجویز بھی شامل ہے جس کے تحت ریاست کے اعلی ترین وکیل کو ایک پراسیکیوٹر متعین کرنے کی اجازت ہو گی جو انتخابی جرائم اور اس سال کے شروع میں کیے گئے عدالت کے اس فیصلے کی حدود کی جانچ پڑتال کرے گا جس میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے پاس انتخابی جرائم پر مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں ہے۔
ایک دوسری تجویز کے تحت قیام امن سے متعلق افسروں کے ایک گروپ کو انتخابی مارشل کے طور پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا جائے گا جوانتخابات سے جڑی غلطیوں کے دعوؤں کی تحقیقات کرے گا ۔
ٹیکساس کی امیریکن سول لبرٹیز یونین کے ایک سینئیر اٹارنی میٹ سمپسن نے کہا ہے کہ ریاست میں انتخابات سے متعلق تجاویز مثلاً انتخابی جرائم کے لیے سزاوں میں اضافے اور انتخابی مارشلز کی تشکیل سے ووٹرز بہت زیادہ خوف زدہ ہو سکتے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی بنیاد سیاسی ہے اور ان سے ووٹنگ سے منسلک مسائل حل نہیں ہوتے مثلاً شناختی نمبروں پر بڑے پیمانے پر ابہام کے باعث ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں اور بیلٹ کی درخواستوں کے مسترد کیے جانے کی بلند شرح کا مسئلہ۔

ری پبلکن کنٹرو ل کی ایک اور ریاست اوہائیو کے قانون سازبھی سختیوں پر دباؤ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ ریاست امکانی طور پر اس کے بعد قومی توجہ حاصل کرلے گی جس کے ری پبلکن ارکان کہہ چکے ہیں کہ وہ بیلٹ میں یہ تجویز بھی شامل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 60 فیصداکثریت لازمی ہونی چاہئے۔
اوہائیو کے ریپبلکنز دسمبر میں انتخابی قانون میں بڑے پیمانے کی تبدیلی کی منظوری دے چکے ہیں ۔ اس بل میں ووٹروں کے لیے فوٹو آئی ڈی کو لازمی کر دیا گیا ہے جو انہیں مفت فراہم کی جائے گی اور ایک ڈائریکٹیو کے تحت ہر کاونٹی کو صرف ایک بیلٹ ڈراپ باکس دیا جائے گا اور انتخاب کے دن سے پہلے قبل ا ز وقت ووٹنگ کو ختم کر دیا جائے گا۔
اس بل کے تحت انتخابات کے بعدڈاک کے ذریعےملنے والے ووٹوں کے دنوں کی تعداد بھی دس دن سے کم کر کے چار دن کر دی گئی ہے۔
یہ بل ووٹنگ کے حقوق کے علمبردا روں کو برہم کر رہا ہے۔ لیگ آف ویمن ووٹرز اوہائیو کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر جین ملر کا کہنا ہے کہ یہ بل ووٹنگ کو بزرگ شہریوں، طالب علموں ، اوہائیو کے دیہاتیوں ، حاضر سروس فوجیوں اور ریاست کے دوسرے اہل ووٹرز کے لیے ووٹنگ غیر ضروری طور پر زیادہ مشکل ہو جائے گی۔ ری پبلکن گورنر مائک ڈی وائن کے دفترنے کہا ہے کہ گورنر اس بل پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈیمو کریٹس اپنی تجاویز پر زور دے رہے ہیں خاص طور پر دو ریاستوں مشی گن اور منی سوٹا میں جہاں انہوں نے ایوان کا کنٹرول جیتا ہے اور گورنر شپ برقراررکھی ہے ۔
مشی گن کے ووٹرز نے ڈیمو کریٹس کو نہ صرف ریاستی اسمبلی کا کنٹرول دیا بلکہ انہوں نے بیلٹ سے متعلق اس بل کو بھی منظور کرایا جس میں جلد اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو بڑھادیا گیا ہے ۔
ڈیمو کریٹس اس بل کو قانون سازی کے سیشن میں تقویت دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مشی گن کے ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ایک ترجمان جیک رولو نے کہا کہ ریاستی وزیر جاشولن بینسن امکانی طور پر مقامی انتخابی دفاتر کے لیے سالانہ 100 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز دیں گی اور انتخابات کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف نئی تجاویز بھی پیش کریں گی۔
ایک ڈیمو کریٹ قانون ساز نے انتخابی کارکنوں پر دباؤ ڈالنے والے لوگوں کے لیے بھی سزائیں لاگو کرنے کی تجویز د ی ۔

سائمن نے کہا کہ منی سوٹا میں وہ انتخابی کارکنوں کو دھمکی دینے یا ان کے کام میں مداخلت پر بھی سزاوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وہ متعدد دوسری اصلاحات پر بھی دباو ڈالیں گے جن میں ہائی اسکول کے طالب علموں کی پیشگی رجسٹریشن تاکہ وہ 18 سال کے ہوتے ہی تیزی سے ووٹ ڈال سکیں ۔ نوجوان ووٹروں کا جھکاو ڈیمو کریٹس کی طرف ہے لیکن سائمن نےکہا کہ وہ اپنی پارٹی کو پروموٹ کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات عوام کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی کر سکیں ، وہ مقصد جس پر انہوں نے ا س وقت بھی زور دیا تھا جب ریاستی ایوان ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان بٹا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ اصلاحات ہیں جن سے ہر ایک کو فائدہ ہو گا۔
اس رپورٹ کا مواد ایسو سی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے۔
