فرانس کی وزیر اعظم الزبتھ بورن نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔
بورن نے ، اوقاتِ کار کی نامساعد شرائط کے خلاف ا ور مشورہ فیس میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ جاری، ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بارے میں فرانس کے انفو ٹیلی ویژن چینل کے لئے بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے، ہسپتالوں میں عملے کی قلت اور مریضوں کی کثرت کے اس دور میں ہڑتال کا فیصلے کی وجہ سے ڈاکٹروں پر تنقید کی ہے۔
بورن نے کہا ہے کہ مجھے احساس ہے کہ انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ بہتری کے خواہش مند ہیں لیکن کرسمس کے دنوں میں، کہ جب ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، ہڑتال پر جانا غیر ذمہ دارانہ روّیہ ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ محض چند ڈاکٹر لیبر یونینوں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے اور ہڑتال ایک ایسے دور میں کی جا رہی ہے کہ جب صحت کے عملے کے آئندہ 5 سالوں سے متعلق مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم الزبتھ بورن نے، اس موسم سرما میں فرانس کے ہسپتالوں کو درپیش نزلہ زکام اور کووِڈ۔19 جیسی وباوں کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ اس دور میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے عملے نے خدمات دی ہیں۔ 2 سالوں سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے کہ لیکن ہمیں اس اضافے کے ناکافی ہونے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ حکومت شعبہ صحت کے بحران پر قابو پانے کے لئے ایک موزوں حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہفتے کے اواخر میں صدر امانوئیل ماکرون ہیلتھ کیئر عملے سے خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال گذشتہ ہفتے شروع ہوئی اور توقع تھی کہ آج ختم ہو جائے گی لیکن اس کے برعکس ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر اپنے مطالبات کو حکام بالا تک پہنچانے کے لئے 5 جنوری تک پیرس میں ہڑتال جاری رکھیں گے۔
