English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

75 ویں یوم آزادی پر سات ہزار سے زیادہ قیدی رہا کیے جائیں گے، میانمار کا اعلان

میانمار کی فوجی حکومت نے ملک کے یوم آزادی کے موقع پر عام معافی کے تحت 7,012 قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کے سربراہ نے ان ملکوں کو سراہا ہے جنہوں نے فوجی حکومت کی حمایت برقرار رکھی ہے۔

برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ہر سال یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر حکومت کچھ قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی نے کہا ہے کہ تازہ ترین معافی کا اطلاق قتل، عصمت دری، دھماکہ خیز مواد رکھنے، غیر قانونی تعلق، ہتھیار اور منشیات رکھنے اور بدعنوانی سے منسلک الزامات کے تحت جیل میں بند افراد پر نہیں ہو گا۔ فی الحال یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ رہائی پانے والوں میں سیاسی قیدی بھی شامل ہیں یا نہیں۔

تقریباً د و سال پہلے میانمار کی فوج نے نوبیل انعام یافتہ رہنما آنگ ساں سوچی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سے جنوبی ایشیا کے اس ملک کو بین الاقوامی تنہائی اور مغرب کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سینئر جنرل من آنگ ہلینگ نے ملک کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ میں ان بین الاقوامی اور علاقائی ممالک اور تنطیموں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے تمام تر دباؤ، تنقید اور حملوں کے باوجود ہمارے ساتھ مثبت تعاون جاری رکھا۔

میانمار کے 75 یوم آزادی کے موقع پر ٹینکوں کا دستہ مارچ کر رہا ہے۔ 4 جنوری 2023

میانمار کے 75 یوم آزادی کے موقع پر ٹینکوں کا دستہ مارچ کر رہا ہے۔ 4 جنوری 2023

ملک کے دارالحکومت نیپیڈاو میں پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پڑوسی ممالک مثلاً بھارت، چین، تھائی لینڈ، لاؤس اور بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ہم سرحدی استحکام اور ترقی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

فروری 2021 میں ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے میانمار افراتفری اور بے چینی کا شکار ہے۔ ہزاروں جمہوری کارکنوں اور عہدے داروں کو جیل میں ڈالا جا چکا ہے۔ جمہوریت کے حق میں ہونے والے عوامی مظاہروں کو فوجی ہنتا نے تشدد کے ساتھ کچل دیا۔ فوج کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں اپنی جانیں بچانے کے لیے روپوش ہیں یا دیگر ملکوں میں فرار ہو چکے ہیں۔

ملک میں امن و امان کی صورت حال بتدریج بگڑتی جا رہی ہے اور پیپلز ڈیفنس فورس نامی ایک گروپ نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج نسلی اقلیتی گروپس کے ساتھ بھی جھڑپوں میں الجھی ہوئی ہے۔


ینگون میں آنگ ساں سوچی کی رہائی کے لیے ایک مظاہرے کے شرکاء ان کی تصاویر پر مبنی بینر ز اٹھائے ہوئے ہیں۔ 8 اپریل 2021

ینگون میں آنگ ساں سوچی کی رہائی کے لیے ایک مظاہرے کے شرکاء ان کی تصاویر پر مبنی بینر ز اٹھائے ہوئے ہیں۔ 8 اپریل 2021

حال ہی میں آنگ ساں سوچی کو بدعنوانی کے پانچ الزامات میں سات سال قید سزا سنائی گئی ہے اس سے قبل بھی مختلف الزامات کے تحت انہیں لگ بھگ 26 سال قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ جب کہ بین الاقوامی سطح پر ان سزاؤں کی مذمت کی گئی ہے۔

امریکہ ، یورپی یونین ، برطانیہ اور کینیڈا نے میانمار کی فوج اور ایسے افراد پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے فوج کو اقتدار میں لانے میں مدد دی۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 74 برسوں میں پہلی بار چند روز قبل میانمار کے بارے میں اپنی پہلی قرارداد منظور کی، جس میں تشدد کے خاتمے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے لیے کچھ مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے