ترکیہ کے وزیر توانائی فاتح دونمیز نے کہا ہے کہ بحیثیت ترکیہ، بحیرہ کیسپین، مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم کے وسائلِ توانائی کو یورپ پہنچانے کے لئے، ہمارے پاس انفراسٹرکچر بھی موجود ہے، سیاسی ارادہ بھی اور تجربہ بھی ۔
فاتح دونمیز کے دورہ بلغاریہ کے دوران صدر ‘رومین رادیف’ نے دارالحکومت صوفیہ میں ان کے ساتھ ملاقات کی۔
ملاقات صدارتی دفتر میں طے پائی اور موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں صدر رادیف نے ، کل انرجی کے شعبے میں طے پانے والے اور ترکیہ سے بلغاریہ کے لئے سالانہ 1،5 بلین مکعب میٹر قدرتی گیس کی منتقلی پر مبنی ،سمجھوتے کو تاریخی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم نہ صرف دونوں ممالک کے لئے بلکہ اپنے یورپی ساجھے داروں کے لئے بھی سلامتی اور وسائل کے تنوّع کو یقینی بنا رہے ہیں”۔
انہوں نے کہا ہے کہ” اب کے بعد، باہمی تعاون کی خاطر ،متوقع اقدامات ہمارے لئے باعثِ طمانیت ہیں”۔
ترکیہ کے وزیر توانائی فاتح دونمیز نے بھی کہا ہے کہ "ہمیں امید ہے کہ ہمارا باہمی تعاون دیگر علاقائی ممالک کے لئے بھی مثال بنے گا۔ میں اس پہلو کو واضح کرنا چاہوں گا کہ بحیثیت ترکیہ، بحیرہ کیسپین، مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم کے وسائلِ توانائی کو یورپ پہنچانے کے لئے، ہمارے پاس انفراسٹرکچر بھی موجود ہے، سیاسی ارادہ بھی اور تجربہ بھی ۔ یقیناً بڑی مقدار میں وسائل کی منتقلی کے لئے نئے منصوبوں کی ضرورت ہے اور ہم اس شعبے میں بلغاریہ کے ساتھ تعاون کریں گے”۔
دونمیز نے کہا ہے کہ توانائی کے دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بلغاریہ کے وزیر اعظم گِلیب دونیف اور پارلیمنٹ کے سربراہ وجدی راشدوف کے ساتھ بھی ملاقات کی۔
بلغاریہ کے بعد شمالی مقدونیہ کے دارالحکومت اُسکُپ کا دورہ بھی وزیر توانائی فاتح دونمیز کے پروگرام میں شامل ہے۔
