English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان کو خواتین پر عائد پابندیاں نہ ہٹانے کی قیمت ادا کرنی پڑے گی: امریکہ

امریکہ افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے خواتین کو دی جانےوالی ملازمتوں پر طالبان کی پابندی کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بارے میں ایسی پالیسیوں پر غور کررہا ہے جو جلد ہی سامنے آسکتی ہیں ۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے دنیا بھر میں خواتین کی اقتصادی سیکیورٹی پر بدھ کے روز پہلی امریکی حکمت عملی کے اجراء کے موقع پر کہا کہ جہاں کہیں بھی خواتین کے حقوق کو خطرہ لاحق ہو ہم ان کا ساتھ دینے کا عزم رکھتے ہیں ،ان میں افغانستان شامل ہے جہاں بد قسمتی سے ہم حالات کو مسلسل بد تر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

اعلیٰ امریکی حکام طالبان پر بار بار زور دے چکے ہیں کہ وہ خواتین پر این جی اوز میں کام کرنے اور پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں جانے سے روکنے سے متعلق پابندیاں ختم کریں اور وہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنے کے بارے میں ا انتباہ کر چکے ہیں۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن طالبان کے خلاف مخصوص نتائج کا جائزہ لے رہا ہے، لیکن انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔


امریکی وزیر خارجہ انٹںی بلنکن واشنگٹن میں خواتین کو معاشی شعبے میں مردوں کے مساوی لانے سے متعلق امریکی حکمت عملی کا اجراءکر رہے ہیں۔ 4 جنوری 2023

امریکی وزیر خارجہ انٹںی بلنکن واشنگٹن میں خواتین کو معاشی شعبے میں مردوں کے مساوی لانے سے متعلق امریکی حکمت عملی کا اجراءکر رہے ہیں۔ 4 جنوری 2023

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ دنیا بھر میں اپنے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ افغان عوام کی حمایت کرتے ہوئے طالبان کے خلاف مذمت کا اظہار کرنے کے لیے متعدد مخصوص اقدامات تشکیل دیے جا سکیں۔

پرائس نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی سے متعلق ا یسا رد عمل محتاط ہو گا تاکہ افغان عوام کی انسانی فلاح و بہبود کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

طالبان باقی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور وہ ملکوں سے کھلے عام افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے کہہ چکے ہیں ۔ لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ دونوں طریقے اپنا سکتے ہیں یعنی یہ کہ وہ افغان خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر سکتے ہیں اور دوسرے ملکوں سے تعلقات مستحکم کرنے کی امید بھی رکھ سکتے ہیں ۔

2022میں پورے سال افغانستان میں حکمران طالبا ن نے صنفی بنیاد پر کچھ ایسی بد ترین امتیازی پالیسیاں متعارف اور نافذ کی ہیں جو کہیں نہیں دیکھی گئیں ۔

دسمبر کے آخر میں ، طالبان نے خواتین کی تعلیم پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی عائد کر دی ۔

افغانستان: 'یونیورسٹی بند ہونے سے میرے سب خواب ختم ہوگئے'





please wait



No media source currently available

اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد طالبان نے لڑکیوں کو سیکنڈری اسکولوں سے خارج کر دیا ۔طالبان اقتدارکے تحت افغانستان وہ واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں پر ان کی صنف کی وجہ سے اسکول جانے پر پابندی عائد ہے ۔

24دسمبر کو طالبان نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں افغانستان میں انسانی ہمدردی کی غیر ملکی اور ملکی تنظیموں کو خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیا گیا اور انتباہ کیا گیا کہ جو گروپ بھی اس حکم کی تعمیل میں ناکام رہے گا ا اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، 11 این جی اوز کے ایک اتحاد کو افغانستان میں اپنی کارروائیاں معطل کرنا پڑیں ۔


این جی او کیئر کی خواتین ورکرز، امدادی اشیا تقسیم کرنے سے پہلے خواتین کی شناختی دستاویز کی جانچ پڑتال کررہی ہیں۔فائل فوٹو

این جی او کیئر کی خواتین ورکرز، امدادی اشیا تقسیم کرنے سے پہلے خواتین کی شناختی دستاویز کی جانچ پڑتال کررہی ہیں۔فائل فوٹو

افغان خواتین کے لیے امریکہ کی خصوصی ایلچی رینا امیری نے وی او اے کی دیوا سروس کو اسکائپ پر ایک حالیہ انٹرو یو میں بتایا کہ یہ مذہب نہیں، سیاست ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دنیا بھر میں جس بھی مسلم اکژیت (والے ملک) کےنمائندے سے بات کی ہے ، خواہ وہ سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، انڈو نیشیا ، ملائشیا یا جس بھی ملک کا نمائندہ تھا اس نے یہی کہا ہے کہ طالبان ہر جگہ اسلام کے تصورکو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

کچھ لوگ خواتین کی تعلیم پر پابندی کےطالبان کے فیصلے کو اندرونی چپقلش کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔


افغانستان طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار ںے سے پہلے بھی معاشی بحران کا شکار تھا جو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے دوچند ہو گیا تھا۔حالیہ پابندیاں خاص طور سے ان خاندانوں کے لئے تباہ کن ثبت ہو سکتی ہیں جہاں کوئی مرد سر پرست نہٰیں ہیں۔فائل فوٹو

افغانستان طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار ںے سے پہلے بھی معاشی بحران کا شکار تھا جو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے دوچند ہو گیا تھا۔حالیہ پابندیاں خاص طور سے ان خاندانوں کے لئے تباہ کن ثبت ہو سکتی ہیں جہاں کوئی مرد سر پرست نہٰیں ہیں۔فائل فوٹو

امیری نے کہا کہ یہ طالبان کے اندر ایک ایسا سخت گیر عنصر ہے جو اپنی طاقت کو مضبوط کرنے اور اس طاقت کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اداروں کے اندر خواتین کی اقتصادی سیکیورٹی میں اضافے کے لیے ایک حکمت عملی پیش کی۔جس کا مقصد دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم ، اختراع اور معیاری ملازمت تک مساوی رسائی کو فروغ دینا ہے ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس سے عالمی جی ڈی پی میں 5 اعشاریہ تین ٹریلین کا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے سب کے لیے معاشی تحفظ اور خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ کی سرکاری ایجنسیاں بدھ کو اس حکمت عملی کے اجراء کے بعد، چھ ماہ کے اندر انفرادی ایکشن پلان مرتب کریں گی جو امریکی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی پروگرامنگ اور ترقیاتی امداد کے بارے میں آگاہ کریں گے ۔

امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ صنفی مساوات اور مساوات ایکشن فنڈ کے ذریعے افغان خواتین کی مدد جاری رکھے گا، جو دنیا بھر میں مقامی اور سول سوسائٹی کے شراکت داروں کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے۔

یہ رپورٹ وی او اے کی دیوا سروس کےتعاون سے تیار کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے