اسلام آباد : سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان کا بیڑا غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، ہر ادارہ ایمنسٹی دے رہا ہے۔
پیر کوجعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل پر سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوئی۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ایمنسٹی دینے کا اختیار پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے، صوبہ کہتا ہے کہ یہ گاڑی ہمارے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کسٹمز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ سورہے ہیں یا اپنی پوسٹیں بیچ رہے ہیں؟ گاڑی کوئی جیب میں ڈال کر نہیں لاتا نہ ہی اڑ کر آتی ہے، جب گاڑی آجاتی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں،گاڑی آئی کیسے؟ اس کا کوئی جواب نہیں دے رہے، آپ ذرا چمن بارڈر پر جائیں اور دیکھیں گاڑی کیسے آتی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر عجیب نمبر پلیٹ والی گاڑیاں چل رہی ہیں، یہ گاڑیوں والے شاید بہت طاقتور لوگ ہیں، نہ کسٹمز والے چیک کرتے ہیں نہ پولیس، آپ نے قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، برطانوی وزیراعظم کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ سے چالان ہو گیا، برطانوی وزیراعظم نے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی، آپ اپنے وزیراعظم تو دور،کسی ڈی سی یا سی ڈی اے افسرکا چالان کرکے دکھائیں۔
سپریم کورٹ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی ضبط کرنے کی پاکستان کسٹمز کی اپیل مسترد کر دی۔یاد رہے کہ پاکستان کسٹمز نے 1998 ماڈل کا ہینو ٹرک 2018 میں پکڑا تھا، ایپلٹ ٹریبونل نے فیصلہ پاکستان کسٹمز کے خلاف دیا تھا جس کے خلاف کسٹمز نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

