English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انتخابی عمل مکمل نہیں ہو رہا، الیکشن کمشنر بتائیں کون دباؤ ڈال رہا ہے، حافظ نعیم

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مکمل ہونے کے باوجود انتخابی عمل مکمل نہیں ہو رہا ،چیف الیکشن کمشنر ہمت کر کے بتائیں کہ ان پر کون دباؤڈال رہا ہے۔ متبادل راستہ دیئے بغیر سڑکوں کی ناکہ بندی عوام کے ساتھ ظلم ہے۔

دفتر جماعت اسلامی کراچی ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہوئے تھےآج 31 دن ہوگئے، الیکشن کمیشن نے 11 یوسیز کے نتائج کا اعلان نہیں کیا، کراچی میں آکر ہر ایک کا قانون بدل جاتا ہے، کراچی شہر کو نظر انداز کیا جاتا ہے،آپ لوگ کراچی کے ساتھ کر کیا رہے ہیں؟آپ جمہوریت دشمنی بھی کرتے ہیں، تعلیم دشمنی بھی کرتے ہیں، مینڈیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کی سہولت کار ہیں، کراچی میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے اس کے باوجود کراچی کو سستی بجلی نہیں دی جاتی شہر کو سستی بجلی فراہم کی جائے یہ کراچی کا حق ہے، کے الیکٹرک 3 گنا مہنگی بجلی دیتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو بیوروکریٹ بات کرتا ہے اس کو ہٹا دیا جاتا ہے، ایک دوسرے پر چور چور کا الزام لگاتے ہیں، خود چوریوں میں ملوث ہوتے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے، ہمارے پاس لوگوں کا مینڈیٹ ہے۔

شہر میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بدترین ٹریفک کا مسئلہ ہے ،شہری اذیت میں مبتلا ہیں،ایکسپو کی نمائش کے باعث ٹریفک میں رکاوٹوں سے شہری پریشان تھے ابھی یہ مسئلہ حل ہی ہوا تھا کہ پی ایس ایل کی وجہ سے ناکا بندی کر دی گئی ہے،عدالت کی جانب ہدایت کے باوجود سڑکیں بندکی ہوئی ہیں،میچز کروانے کیلئے سب سے پہلے ٹریفک پلان بنایا جاتا لیکن کوئی پلان نہیں بنایا گیا تحفظ فراہم کرنا اچھی بات ہے لیکن ٹریفک پلان بھی ہونا چاہیے،ڈی ایچ اے میں اسٹیڈیم ہے ،بحریہ ٹاؤن میں بھی اسٹیڈیم موجوہےمیچز وہاں کروائے جائیں اس سے شہر یوں کے لئے ٹریفک کا مسئلہ بھی نہیں ہوگا اور سیکیورٹی کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا ۔

تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں صرف دو یونیورسٹیاں موجود ہیں جبکہ شہر میں 5 یونیورسٹیاں ہونی چایئں،کراچی یونیورسٹی میں ایوننگ پروگرامز سیلف پر چل رہے ہیں جس میں غریب کے بچے ایڈمیشن نہیں لے سکتے،اس وقت کراچی یونیورسٹی میں لاکھوں کی تعداد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں لیکن انفرااسٹریکچر دیکھنے کے قابل نہیں،یونیورسٹیز میں ہڑتالیں چل رہی ہیں کلاسز کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے پروفیسروں کو ان کے حقوق میسر نہیں کیے جارہے کلاسز کے با ئیکاٹ سے طلبہ و طالبات پریشان ہیں لیکن کو ئی سننے والا نہیں پروفیسروں کی جانب سے ہڑتال کوئی خوش آئند بات نہیں حکومت سندھ اس مسئلے کو سنجیدگی حل کرے اور پروفیسروں کو انکا حق دیاجائے جبکہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر موجود نہیں ہے اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ زیر غور ہے ان تمام تر مسائل کو فوری طور پر حل کیے جائیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے