اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نتان یاہو کی حکومت کی عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے والی تجاویز اور پالیسیوں کے خلاف سینکڑوں افراد نے مغربی القدس میں احتجاج کیا ہے۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت اور نتان یاہو کے خلاف نعرے درج تھے جبکہ مظاہرین نے اسرائیلی پرچم اتھار کھے تھے۔
مظاہرے میں اسرائیل کی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی نے بھی شرکت کی۔
وزیر انصاف یاریو لیون نے 5 جنوری کو اعلان کیا کہ وہ ایک ایسے قانون کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرے گا اور ججوں کے انتخاب پر عدلیہ کے اثر و رسوخ کو کم کرے گا۔
نتان یاہو کی قیادت میں اتحادی حکومت کے عدلیہ کے کچھ اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کے اقدام نے حکومت اور اسرائیلی عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کے درمیان تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
اسرائیل کی سپریم کورٹ، جو ملک میں اعلیٰ ترین عدالتی اتھارٹی کے طور پر کام کرتی ہے، اس بنیاد پر اسمبلی کے منظور کردہ قوانین کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔
نتان یاہو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ عدالتی انتظامات میں سپریم کورٹ کو اسمبلی کے منظور کردہ قوانین کو کالعدم کرنے کے اختیار سے محروم کرنا شامل ہے۔
اسرائیل میں ہزاروں افراد نتان یاہو حکومت کی عدالتی ضابطوں اور دائیں بازو کی پالیسیوں کے خلاف مختلف شہروں بالخصوص تل ابیب میں ہفتوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔
