اسلام آباد:وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب آج عمران خان کے ترجمان کل ان کے سہولت کار رہے ، سابق چیف جسٹس نے اپنے دور میں کے پی کے حکومت کے خلاف کتنے ازخو د نوٹس لئے یا کیسز سنے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ آج سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ایک بیان سامنے آیا ، ان کے ساتھ بہت ادب سے گذارش کر چکا ہوں کہ سیاست ،سیاستدانوں کا کام ہے ،اپنے آپ کو سیاست سے الگ کریں اور بیان بازی سے اجتناب کریں ۔ان کا جو بیان سامنے آیا ہے وہ تحریک انصاف کا ترجمان بن کر سامنے آیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہماری مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ثاقب نثار کی عمران خان سے ملاقات ہو چکی ہے۔ وہ یومیہ بنیاد پر رابطے میں ہیں ، ٹیرن کیس سمیت اہم کیسز کو مینج کرنے کے لئے عمران خان نے انھیں ٹاسک سونپا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار پی ٹی آئی کی ترجمانی کرتے ہوئے عمران خان کے اوصاف بیان کر رہے ہیں ۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی تو 56 کمپنیوں کا کیس ، صاف پانی کمپنی کیس کس نے اٹھایا حالانکہ نیب سے کلین چٹ آگئی تھی کہ اس میں کچھ نہیں ہے، فیض حمید کے ساتھ ملکر یہ سب کچھ کیا جاتا رہا ۔
انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے اپنے بھائی کے اسپتال کو پرموٹ کروانے کے لئے پی کے ایل آئی ہسپتال کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ، صلاحیت والے ڈاکٹر پاکستان سے باہر جاتے ہیں لیکن ڈاکٹر سعید اختر اپنی بہترین نوکری چھوڑ کر پاکستان آئے ،انھیں کٹہرے میں کھڑا کر کے زلیل و رسوا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی انتخابی مہم سابق چیف جسٹس نے خود چلائی ،الیکشن میں حریفوں کو فائدہ دینے کے لئے خود مہم چلائی ، ایک طرف شہباز شریف کی تصاویر منصوبوں سے ہٹوا دیں دوسری جانب عمران خان اور پی ٹی آئی کو پرموٹ کرتے رہے ۔

