لاہور: نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان و سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام کا خاندانی نظام عورت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفٰی ۖ نے احترام انسانیت اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے اور تاریخ ساز چارٹر خطبۂ، حجة الوداع میں خواتین کے حقوق کا تعین فرماکر انہیں اعلیٰ مقام دِلایا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام اور پیغمبر اسلامۖ نے خواتین کے حقوق اور ان سے حسن سلوک کے حوالے سے جو تعلیمات بیان فرمائی ہیں، دنیا کا کوئی مذہب، کوئی معاشرہ اور کوئی قانون اس کی برابری نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس مغرب نے عورت کو معاشرے میں محض ایک نمائشی اور دِکھاوے کی چیز کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ مغرب نے”آزادی” کے خوش کُن اور پُرفریب نعرے کے تحت ایک ایسا مادر پدر آزاد نظام اہل دنیا کو دیا، جو معاشرے میں بگاڑ اور بے راہ روی کا بنیادی سبب ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ لاہور میں پی ٹی آئی کی انتخابی ریلی پر پولیس تشدد، کارکنان کا جاں بحق ہونا نگراں حکومت کے لیے نیک فال نہیں۔ آئین، قانون اور جمہوری حق کے مطابق انتخابات کے لیے مہم چلانا ہر پارٹی کا حق ہے۔
انہوں نے کہاکہ افراتفری زدہ سماج اور اقتصادی بحران میں ڈوبا ہوا نظام، جمہوریت اور انتخابات سے فریب کاری برداشت نہیں کرسکے گا۔ وفاقی، سندھ، بلوچستان حکومتیں ایک دن انتخابات کے لیے اپنی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ پوری جمہوری انتخابی نظام کو انا اور مفادات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

