امریکہ کے وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ہمیں مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی آبادکاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف اختیار کردہ پُر تشدد کاروائیوں پر بے اطمینانی کا سامنا ہے۔
آسٹن نے تل ابیب کے بین الاقوامی بن گوریئن ایئر پورٹ کے جوار میں اپنے اسرائیلی ہم منصب یوآو گالانٹ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا اسرائیل کی سلامتی ہمارے لئے مقدم ہے لیکن امریکہ، یہودی بستیوں کی توسیع اور اشتعالی بیانات سمیت مزید عدم استحکام کا سبب بننے والے ہر طرح کے اقدامات کی قطعی مخالفت کرتا ہے۔خاص طور پر ہم یہودی آبادکاروں کی فلسطینیوں کے خلاف اختیار کردہ پُر تشدد کاروائیوں پر بے اطمینانی محسوس کر رہے ہیں”۔
آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو تناو میں کمی کرنے کی ضرورت سے آگاہ کرنے کا ذکرکیا اور فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم ،فلسطین انتظامیہ سے بھی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد، ربط و تعاون جاری رکھنے اور اشتعالی واقعات کی مذمت کرنے کی اپیل کرتے ہیں "۔
ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسٹن نے کہا ہے کہ ” ہمارا یقین ہے کہ ایران کو جوہری اسلحے کے حصول سے باز رکھنے کا بہترین راستہ ڈپلومیسی ہے۔جیسا کہ صدر بائڈن بھی بارہا کہہ چُکے ہیں، امریکہ ایران کو جوہری اسلحہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا”۔
اسرائیل کے وزیر دفاع گالانٹ نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ "اسرائیل مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں استحکام و سلامتی کے لئے اور فلسطینی عوام کی خوشحالی کے لئے کوششیں کر رہا ہے”۔
علاقے میں بڑھتے ہوئے تناو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گالانٹ نے کہا ہے کہ "ہم دہشت گردی کے مقابل پُر عزم اور مضبوط روّیہ اختیار کریں گے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی کوششوں میں ہے اور صرف اسرائیل کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ایران کو جوہری اسلحے کے حصول سے باز رکھنے کے لئے تمام تر حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمیں ہر طرح کی کاروائی کے مقابل تیار حالت میں ہونا چاہیے”۔
