یوکرین 2022 میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی عالمی ہتھیاروں کی منتقلی کی رپورٹ کے مطابق، 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والی روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کی جانب سے یوکرین کو بڑے پیمانے پر فوجی سازو سامان فراہم کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین، 2022 میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
یوکرین نے اپنی آزادی 1991 میں سوویت یونین انہدام کے دوران حاصل کی تھی اور 2021 کے آخر تک بڑی تعداد میں اسلحہ درآمد کیا تھا۔ تاہم 24 فروری 2022 کو روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف شروع کی گئی جنگ نے اس صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا۔
ایس آئی پی آر آئی آرمز ٹرانسفر پروگرام کے سینئر ریسرچر پیٹر ویزمین نے کہا ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال عالمی ہتھیاروں کی منتقلی میں کمی آئی تھی لیکن روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد یورپی ممالک زیادہ سے زیادہ تیزی سے اسلحہ درآمد کرنا چاہتے ہیں۔
SIPRI کے مطابق اسلحے کی برآمدات پر ایک طویل عرصے سے امریکہ اور روس کا غلبہ رہا ہے اور یہ دونوں ممالک پچھلی تین دہائیوں میں ہتھیاروں کے دو بڑے برآمد کنندگان رہے ہیں۔
SIPRI کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2013-2017 اور 2018-2022 کے درمیان امریکی ہتھیاروں کی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا، اور واشنگٹن نے 2018-2022 میں ہتھیاروں کی عالمی برآمدات کا 40 فیصد ہے۔
ان دونوں ادوار کے درمیان جہاں روس کی اسلحے کی برآمدات میں 31 فیصد کمی واقع ہوئی، وہیں عالمی ہتھیاروں کی برآمدات میں اس کا حصہ 22 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گیا۔
فرانس کا حصہ 7.1 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا ہے ۔
