شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسن تاتار نے کہا کہ ایسا کوئی قدرتی طریقہ کار نہیں ہے جو ترک قبرص اور یونانیوں کو متحد کر کے انہیں ایک ریاست میں یکجا کرے اور زندگی بسر کرنے پر مجبور کرے
انہوں نے کہا کہ وہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ اپنی 40ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر نے والے والا یہ ملک اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ قبرص ایک حقیقت ہے اور وہاں مفاہمت کی ضرورت ہے، تاتار نے کہا کہ مفاہمت اور تعاون کا راستہ دو خودمختار مساوی ریاستوں سے گزرتا ہے، اور مسئلہ کے حل ایک الگ ریاست کو تسلیم کرنے ہی سے ننکن ہے۔
تاتار نے کہا کہ کچھ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں ریاستون کو یکجا کرنے کے مطالبات حقیقت سے بہت دور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایسا طریقہ کار موجود نہیں ہے جو ہمیں اور قبرصی یونانیوں کو یکجا کرے اور ہمیں ایک ریاستکے طور پر رہنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ قبرص کی اپنی حقیقت موجود ہے ۔ ۔ ہر شخص نے 60 سالوں سے اپنی پوزیشن کا تعین کیا ہے۔ میں یونانی زبان نہیں جانتا اور وہ ترکی زبان نہیں جانتے ہیں۔ کاروباری دنیا دونوں طرف ہے، اس سلسلے میں، ہم دو الگ فیڈریشن فیڈریشن سے کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔
تاتار نے کہا کہ تعاون اور مفاہمت کی صورت میں ترکیہ سے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں آنے والے پانی کو جنوبی قبرص میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
صدر تاتار نے مزید کہا کہ وہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو تسلیم کروانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
