شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران تجرباتی مختصر الفاصلہ بیلسٹک میزائل داغا ہے۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ ڈونگ چینگ ری کے مقام سے داغے گئے میزائل نے 800 کلومیٹر دور اپنے ہدف کو نشانہ بنایا، یہ میزائل تجربہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری فوجی مشقوں کیلئے ایک اہم پیغام ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے میزائلداغنے کے بعد امریکہ نے کورین پیننسولا میں بی-1 بی اسٹریٹجک بومبر تعینات کردیا تاہم جنوبی کورین حکام کا کہنا تھا کہ بومبر کی تعیناتی کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، اس کا جنوبی کوریا کے تازہ میزائل لانچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جنوبی کورین حکام نے بیلسٹک میزائل ٹیسٹ لانچ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار دے دیا۔
دوسری جانب جاپانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ جزیرہ نما کوریا میں جاپان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقین بھی جاری تھیں۔
جاپان کے وزیر دفاع کا اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ شمالی کوریا کےمختصر الفاصلہ بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ عالمی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان نے بیجنگ میں موجود شمالی کوریا کے سفارت خانے کو اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے۔
امریکا کی انڈو پیسیفک کمانڈ کا کہنا تھا شمالی کوریا کی جانب سے کیا گیا میزائل تجربہ امریکی افواج یا اتحادیوں کیلئے کوئی فوری خطرہ نہیں تاہم یہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے غیر قانونی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بھی شمالی کوریا کی جانب سےجزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔
