English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا، حافظ نیم

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نیم نے کہا ہے کہ  پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ سابق وزیراعظم گیلانی نے کہا تھا کہ طلبا اور مزدور یونین بحال کرینگے لیکن اب تک نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں بھی جمہوریت نہیں وراثت چلتا ہے، ان کی اپنی پارٹی میں آمریت قائم ہے۔ ہمیشہ سے ان سے الیکشن کی تاریخ لینے کےلئے عدالت جانا پڑتا ہے۔ بارشوں،سیلاب اور نفری کا کمی کا بہانہ بنا کر الیکشن ملتوی کرتے رہے۔ الیکشن کمیشن خود بھی فیصلوں میں خود مختار نہیں۔

حافظ نیم نے کہا ہے کہ  بلاول ہاوس بہادر آباد اور گورنر ہاوس میں بھی منصوبہ بندی ہوتی رہی۔ پیپلز پارٹی نے الیکشن سے قبل مرضی کے آر اوز لگائے، لوگوں کو دھمکیاں دی گئی کہ کسی طرح سے شرح کم ہو۔ حلقہ بندیوں میں تحفظات کے باوجود بھی ہم الیکشن میں گئے۔ پولیس اور رینجرز کی موجودگی کی وجہ سے بدامنی پیدا نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے بھائی پولنگ اسٹیشنز کے اندر گھومتے رہے۔ جب مکمل نتائج کے بعد نمبر پورے نہیں ہوئے تو سیٹوں پر قبضہ شروع کردیا۔ بلاول صاحب عسکریت کا نام اکثریت نہیں ہے۔ ڈی آر اوز کے ذریعے نتائج رات بھر تبدیل کئے گئے۔ ری کاونٹنگ شروع ہوئی تو کھلے ہوئے تھیلے سامنے آئے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ الیکشن کمشنر پیپلز پارٹی کی بی ٹیم نہ بنے۔ ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ بھی جائینگے۔ جب نتیجہ ٹھیک ہوگا تب ہی پیپلز پارٹی سے بات ہوسکتی ہے۔ سعید غنی کی ہوائش تھی کہ بھائی کو ٹاؤن کا چیئرمین بنائے۔یہ کوئی بادشاہت تو نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی دیگر جماعتوں کی طرح نہیں کہ ڈھیل کرے۔ بلاول صاحب کی خواہش ہے جیالا میئر ہو وہ جیسے بھی آئے۔ الیکشن کمیشن کو ضمنی بلدیاتی انتخاب کروانا پڑے گا۔ ہم شہریوں سے درخواست کرینگے کہ وہ روزے کی حالت میں بھی نکل کر ووٹ کاسٹ کرے۔ ان کا مقصد ایک ہے کہ ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے مال کمائے۔ مینجمنٹ کرنے کے باوجود بھی اپنی ہار کو تسلیم کرے مئیر تو جماعت اسلامی کا ہی بنے گا۔۔

انہوں    نے کہا کہ ہم نے بحریہ ٹاؤن سے لوگوں کو حق دلوایا ہے،کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا۔ کے الیکٹرک مافیا کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ چینسیر گوٹھ میں زبردستی قبضہ چاہتے ہیں،کراچی پر رحم کرکے ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرو۔ زرداری صاحب کو چاہیے کہ بادشاہ بلاول کو سمجھائیں۔۔ بلاول صاحب اپنے درباریوں کے پیچھے مت جائیں۔ الیکشن میں اکثریت پیپلز پارٹی کو حاصل نہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو خریدنے کی بھی بات کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے امیدواروں سے رابطے میں رہے۔ آپ ہوتے کون ہے اختیارات دینے اور نہ دینے کی بات کرنے والے۔ ہاوس مکمل کئے بغیر کیسے میئر کے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ بلاول صاحب ضمنی الیکشن سے پریشان کیوں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے