لتھوانیا کے وزیر ِ خارجہ گیبرئے لیوس لینڈز برگس نے روسی صدر ولا دیمر پوتن کے بیلا روس میں حربہ جوہری اسلحہ کی نصبی کے فیصلے کو "کمزوری” قرار دیا ہے۔
لینڈز برگس نے اپنی ٹویٹ میں روس کے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی۔
روس کے خلاف سخت رد عمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دینے والے لینڈز برگس کا کہنا ہے کہ "روس اس فیصلے کے ساتھ طاقت کے بجائے اپنی کمزوری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ سنگین پابندیاں، بالٹیک خطے میں فوجیوں کی تعنیاتی اور نیٹو کی مشرقی ونگ کو مضبوطی دلانا باہمی یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کریں گے۔
پولش دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پوتن کا فیصلہ روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت سے متعلق کشیدگی کو شہہ دے گا۔ روس اس طریقے سے بیلا روس کو جنگ میں دھکیل رہا ہے۔
روس کی جانب سے بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کرنے کے اعلان کے بعد سوئس وزارت خارجہ کی پوسٹ میں کہا گیا ہےکہ "ان اطلاعات کی بنیاد پر کہ روس بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کا منصوبہ بنا رہا ہے، سوئٹزرلینڈ جوہری ہتھیاروں سے منسلک تمام خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے”۔
پوسٹ میں اپیل کی گئی ہے کہ کشیدگی کو ہوا دینے سے اجتناب برتا جائے کیونکہ جوہری جنگ کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی اور اس راہ کو ہر گز نہیں اپنانا چاہیے۔
یاد رہے کہ روسی صدر پوتن نے 25 مارچ کو بیان دیا تھا کہ وہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کریں گے، ” اور ہم یہ عمل جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کیے بغیر کریں گے۔”
نیٹو اور یورپی یونین نے روس کے مذکورہ فیصلے کو "غیر ذمہ دار موقف” قرار دیا تھا تو یوکرینی دفتر ِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
