فرانس کی پارلیمان نے سویت دور کے دوران سال 1932 تا 1933 کے درمیان یوکرینی سرزمین پر لاکھوں افراد کو بھوکا رکھتے ہوئے انہیں مرنے کے لیے چھوڑنے کے واقعے کو نسل کشی قرار دیا ہے ۔
فرانسییس پارلیمان نے اس دور کے سویت لیڈر جوزف اسٹالن کی طرف سے اراضی اصلاحات کے بہانے کاشت کاروں کو زبردستی ہولودروم نامی قحط پر مجبور کرنے کو نسل کشی قرار دے دیا جس کی حمایت میں 168 جبکہ مخالفت میں دو ووٹ ڈالے گئے،
یوکرینی زبان میں ہولودروم کا مطلب مصنوعی طور پر انسانوں کو بھوک سے ہلاک کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔
اس نسل کشی میں تقریبا پینتالیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یوکرینی پارلیمان نے بھی سال 2006 میں اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا تھا۔
