اسلام آباد: وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پارلیمان کو ہمیشہ بندوق اور ہتھوڑے سے ڈرا دھمکا کر مفاہمت کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔
میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ دو آئینی ادارے آمنے سامنے ہیں لیکن اس (پارلیمان) ادارے کے سامنے کبھی بندوق والا اور آج ہتھوڑے والا ادارہ ہے۔یہ بات انہوں نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب دو بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تو ایک طاقتور حلقے نے سمجھا کہ یہ اتحاد ہمارے خلاف ہے تو پھر انہوں نے جو ایک شخص کو لانچ کیا اس کے لیے تمام اداروں نے مل کر ریاست کے وسائل اور طاقت استعمال کرکے اس شخص کو بنایا۔
میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ تیسرا ادارہ آج بالکل کھل کر کھڑا ہے جس نے ایک شخص کو گود لیا ہے۔ پارلیمان کو سپریم کو کہتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ آج پارلیمان آئین اور قانون کے تحفظ کے لیے کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان نے جو خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ، جنرل (ر) فیض حمید، بشریٰ بی بی، عمران خان اور جسٹس شوکت صدیقی کو بلائیں تو 70 فیصد آئینی معاملات حل ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ اگر ’ہتھوڑے‘ والوں کو آئین کے تحت پابند نہیں کیا جائے گا تو ہر ادارے سے ایسی آوازیں اٹھتی رہیں گی اور آئین و قانون کو اسی طرح پامال کیا جائے گا
