غزہ پر اسرائیلی فوج اور اندرونی انٹیلی جنس تنظیم شباک کے فضائی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 20 زخمی ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملے میں 12 افراد شہید اور 20 افراد زخمی ہوئے۔
تحریک اِسلامی جہاد کی مسلح شاخ القدسی بریگیڈ نے اطلاع دی ہے کہ ان کی قیادت کے تین کارکنان کی بیگمات اور ان کے بچوں کو اس حملے میں قتل کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جہاد کی مسلح شاخ کی ملٹری کونسل کے سیکرٹری جنرل شاکر غننم کا کہنا ہے کہ شہر کے شمالی علاقے کے کمانڈر خلیل الا بہتینی، مغربی کنارے کے فوجی امور کے سربراہان طارق عزالدین اور سربراہان کی بیگمات اور بچوں کے حوالے سے انہیں دلی صدمہ پہنچا ہے۔
تحریک اسلامی جہاد کے ترجمان طارق سلمی نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ قابض قوتوں کے جرائم کے بر خلاف مزاحمتی قوتوں کے سامنے تمام تر ترجیحات اور سنیارو موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ "اس وقت تک مزاحمت نہیں رکے گی جب تک قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔ مزاحمت نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی خواہش مند قابض افواج کے ساتھ روابط کے اصولوں میں تبدیلی لاتے ہوئے شہداء کا بدلہ لیا جائیگا۔”
حماس کے لیڈر اسماعیل خانیہ نے بھی اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل کو قاتلانہ آپریشن کی منصوبہ بندی میں مغالطہ ہوا ہے، اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مذموم قاتلانہ حملے قا بض قوتوں کو تحفظ فراہم نہیں کریں گے بلکہ اس کے بر عکس مزاحمت میں مزید اضافہ کریں گے۔ "
اس پیش رفت کے بعد، غزہ میں سرکاری پریس آفس نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں تا حکم ثانی تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
