مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کی جانب سے غزہ پر طویل مدتی حملوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے اور اس سلسلے میں قریبی یہودی آبادیوں کو خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیل نے سیکرٹی جائزے کے بعد غزہ میں ایک طویل مدتی حملے کی تیاری کرنا شروع کردی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہرزی حلیوی نے غزہ میں 13 فلسطینیوں کی ہلاکت اور 20 کے زخمی ہونے کے بعد سیکورٹی کے جائزے کے لیے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس رہنماؤں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی جس میں انہوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیلی قابض فوج نے اپنے بیان میں بتایا کہ میٹنگ میں مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کیخلاف ممکنہ پیش رفت اور اسرائیلی دفاعی فورسز کی تمام محاذوں پر تیاریوں اور اس کے ایکشن پلان پر توجہ مرکوز کی گئی۔دریں اثنا محصور غزہ میں لڑائی کئی دنوں تک جاری رہنے کی توقع کے باعث اسرائیلی حکومت نے قرب وجوار میں غیرقانونی اسرائیلی آبادیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل کے مرکز اور جنوب میں شہریوں کیلئے بم سے محفوظ پناہ گاہیں کھول دی گئی ہیں جبکہ ہسپتالوں کی انتظامیہ نے مریضوں کو محفوظ مقامات میں منتقل کردیا ہے۔
