English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا آپ جانتے ہیں۔37

القمر

کیا آپ کو معلوم ہے کہ مصطفیٰ کمال اتا ترک نے علمِ فلکیات پر پہلی ترک کتاب تصنیف کروائی اوریہ کہ  چاندکی سطح  پر ایک آتش فشانی دہانے  کو اتا ترک کا نام دیا گیا ہے؟

 

اصل میں  جنگ ِنجات میں ترکوں کی  فتح کے بعد ترک ملت کے لئے ایک اور جنگ شروع ہو گئی۔  ملک میں ایک طرف   اقتصادیات کے ساتھ نبردآزمائی جاری تھی تو دوسری طرف سائنس اور صنعت میں سرمایہ کاری کی جارہی تھی۔ طالبعلموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرونی ممالک بھیجا جا رہا اور ایک ایسا ملک تخلیق کیا جا رہا تھا جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

 

اس دور میں لوگوں کو ابھی یہ تک معلوم نہیں تھا کہ آسٹرونومی کہتے کسے ہیں۔ لیکن ایک شخص اس شعبے کی اہمیت سے باخبر تھا اور وہ تھا اتا ترک۔ اتا ترک ایک سائنس کے  پرستار اور روشن خیال سربراہ تھے۔ انہوں نے سوربون یونیورسٹی کے شعبہ  ایئر کرافٹ انجینئرنگ  سے فارغ التحصیل پروفیسر ڈاکٹر علی یار سے علمِ فلکیات یعنی آسٹرونومی پر ایک کتاب تصنیف کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک سربراہ مملکت کے آسٹرونومی کتاب تصنیف کروانے کی دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مثال نہیں ہے۔

اس مطالبے پر پروفیسر ڈاکٹر علی یار  نے "کوسموگرافیا” نامی کتاب تصنیف کی۔ کتاب کی پہلی اشاعت 1929 میں یعنی  ایک ایسے دور میں ہوئی کہ جب دنیا اقتصادی بحرانوں کا شکار تھی۔ اس کتاب کو ہائی اسکول کی تیسری جماعت میں بطور  لازمی درس پڑھایا جانے لگا۔ کتاب میں موسموں کے ردو بدل سے لے کر  خلاء میں سیاہ سوراخوں تک ، ارسطو سے کوپرنک اور گلیلیو تک تمام اہم سائنس دانوں کی آراء  کو شامل کیا گیا اور نظام شمسی سے لے کر  کہکشاوں کے نقشوں، سیاروں، ستاروں کے جھرمٹوں، ٹیلی اسکوپوں اور یہاں تک کہ چاند کی سطح پر پائے جانے والے ایک آتش فشانی دہانے تک کو جگہ دی گئی ہے۔

 

1956 میں ایک برطانوی سائنس دان ڈاکٹر ہیو پرسی ولکنس نے اتاترک کے ساتھ عقیدت و احترام کے اظہار کے لئے  چاند کی سطح پر ایک بڑے آتش فشانی دہانے کو اتاترک کا نام دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے