ترکیہ کی سپریم الیکشن کونسل نے کہا ہے کہ ملک میں 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کوئی بھی امیدوار واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، لہٰذا معاملہ اب رن آف (دوبارہ ووٹنگ) کی جانب چلا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے انتخابی محکمے کے سربراہ نے کہا ہے کہ سرکاری نتائج کے مطابق صدر رجب طیب اِردوان نے اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 49.5 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ ان کے حریف کمال قلیچ دار اوگلو 44.89 فی صد ووٹ حاصل کر سکے۔
ترکیہ میں ہونے والی صدارتی انتخابات میں چونکہ دونوں امیدواروں میں سے کوئی بھی مطلوبہ 50 فی صد سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس کے نتیجے میں اب ان دونوں امیدواروں کا مقابلہ 28 مئی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے (رن آف) میں ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکیہ میں ایسا تیسری مرتبہ ہوا ہے جب وہاں صدارتی انتخابات کے لیے براہ راست عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے جب کہ صدر اِردوان اس سے قبل ہونے والے دونوں انتخابات کے پہلے ہی مرحلے میں کامیاب ہوئے تھے۔
ترک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری ابتدائی نتائج کے مطابق حکمراں اے کے پارٹی نے 49.5 فی صد ووٹ حاصل کرکے 266 نشستوں پر کامیابی سمیٹی ہے جب کہ اپوزیشن کے رہنما اور صدر اِردوان کے حریف ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے کمال قلیچ دار اوگلو نے 44.89 فی صد ووٹ لے کر 166 نشستیں حاصل کی ہیں۔ واضح رہے کہ ترک پارلیمنٹ میں مجموعی نشستوں کی تعداد 600 ہے۔
یورپ کے مقابلے میں ترک جمہوریت زیادہ مضبوط
دوسری جانب ترکیہ میں ہونے والے انتخابات نے یورپ کے مقابلے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کرلیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ترکیہ کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح کے لحاظ سے یورپ اب بہت پیچھے رہ گیا ہے۔14 مئی کو ہونے والے صدارتی و پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 90 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں یورپ میں انتخابی ووٹنگ کی شرح65 فی صد تک ہے۔ اس غیر معمولی فرق کے اعتبار سے ترکی جمہوری روایت میں یورپ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں ستمبر 2022ء میں ہونے والے عام انتخابات میں شرکت کی شرح 63 فیصد کے ساتھ ملکی تاریخ کے کم ترین درجے پر رہی جب کہ فرانس میں جون 2022ء کے عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح پہلے انتخابی راؤنڈ میں 48 فیصد کے ساتھ کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔علاوہ ازیں جرمنی میں 26 ستمبر 2021ء کے انتخابات میں 76 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کا استعمال کیا۔
بلغاریہ میں انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 40 فی صد ، پرتگال میں جنوری 2022ء کے عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 57 فی صد اور ہالینڈ میں مارچ 2022ء کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 50.5 فی صد تک تھی۔
