ویب ڈیسک —
منگل کو ایوان نمائندگان کی رولز کمیٹی میں منظوری کے بعد اب صدر بائیڈن اور اسپیکر کیون میکارتھی کے درمیان ہونے والے اس سمجھوتے کو پورے ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے لئے پیش کیا جائے گا، جس کی کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کی صورت میں ، وفاقی حکومت کی اکتیس اعشاریہ چار کھرب ڈالر کی قرض کی حد کو ختم کیا جا سکے گا اور یوں ایک تباہ کن ڈیفالٹ سے بچنا ممکن ہو گا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایوان نمائیندگان میں بدھ کی شام دیر گئے بجٹ ڈیل پر ووٹنگ ہو گی۔جب کہ اجلاس جاری ہے
کانگریس سے منظوری نہ ملنے کی صورت میں امریکہ آئندہ ہفتے کے اوائل میں ڈیفالٹ کر سکتا ہے، جسکےنہ صرف امریکی معیشت پر گہرے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کے لئے بھی ایسے میں ایک بری خبر ہو سکتی ہے جبکہ وہ ابھی کووڈ کی وباء کے بد ترین اثرات سے پوری طرح بحال نہیں ہو سکی ہے۔
ایوان نمائیدگان میں ریپبلیکنز کو معمولی سی اکثریت حاصل ہے۔ تاہم اس دو جماعتی ڈیل کی منظوری کے لئے دونوں پارٹیوں یعنی ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ بعض قدامت پسند ریپبلیکنز اور کچھ پروگریسو ڈیمو کریٹس بل سے مطمئن نہیں ہیں,بہرحال ریپبلیکن اسپیکر میکارتھی پر امید ہیں کہ ووٹنگ میں ڈیل کو منظور کر لیا جائے گا۔
بائیڈن نے ٹوئٹر پر یہ کہتے ہوئے جو کچھ داؤں پر لگا ہے اس کی اہمیت کو واضح کیاکہ "ہمارے اس دو جماعتی بجٹ سمجھوتے سے ہم ممکنہ بد ترین بحران یعنی امریکہ کی تاریخ میں پہلے ڈیفالٹ سے بچ سکیں گے، جو اقتصادی کساد بازاری، ریٹائرڈ لوگوں کے اکاؤنٹس کی تباہی اور لاکھوں کی تعداد میں روز گار کے مواقع ختم ہونے پر منتج ہو سکتا ہے۔”
اس وقت پورےامریکہ بلکہ پوری دنیا کی نظریں بدھ کی شام امریکی ایوان نمائندگان میں اس ڈیل پر ہو نے والی ووٹنگ پر لگی ہوئی ہیں۔
اور اسی لئےآج صبح وال اسٹریٹ انڈیکس بھی نچلی سطح پر کھلا، کیونکہ سرمایہ کاری کرنے والے ووٹنگ کے نتائج کے منتظر ہیں۔
غیر جانبدار کانگریس بجٹ آفس کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری کے نتیجے میں ایک دہائی کے دوران ڈیڑھ کھرب ڈالر کی بچت ہوگی۔
ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا ۔ 5 جون تک اس بل کی کانگریس سے منظوری ضروری ہے۔
(اس خبر میں کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئی ہیں)
