کراچی،لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قومی سیاسی قیادت انتخابات کے انعقاد کے یک نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں، سیاسی بحرانوں کا حل سیاسی مذاکرات سے نکلے گا ۔
کراچی میں سندھ ، سیاسی کونسل ، اسلامی جمعیت طلبہ کے پری بجٹ قومی سیمینار اور منصورہ میں سیاسی انتخابی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 9 مئی سانحات کے ملزمان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔طاقت نہیں حالات کو تدبر اور قومی حکمت سے بہتر کیا جائے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ملکی سیاسی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے ۔آئینی مدت میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے حقیقی خطرات خدشات پیدا ہو رہے ہیں ۔ 9 مئی سانحات نے سیاسی حالات یکسر بدل دیے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت انتظامی اور اقتصادی محاذ پر ناکامیوں کی وجہ سے عوامی غصے سے خوف زدہ ہے اور انتخابات سے عملاً فرار ، تاخیر کے حربے تلاش کر رہی ہے ۔ عمران خان کے مقبولیت کی طاقت کے غیر حکیمانہ استعمال نے سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اور زیادہ طاقتور بنا دیا ہے ۔ ریاست طاقت کا استعمال ماضی میں بھی منفی نتائج لایا ۔
نائب امیر جماعت نے مزید کہا کہ 1970 ء کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کئی تجربات کیے، من پسند طرز حکمرانی کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جو ناکام رہا اور قومی اداروں ، قومی سلامتی اور اقتصادی بنیادوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ۔ قومی سیاست کو گروہ در گروہ سیاسی دھڑوں ، منقسم مینڈیٹ کا فارمولا پہلے سے زیادہ خطرناک نتائج لائے گا۔
لیاقت بلوچ نے قومی سیاسی بحرانوں سے نجات کے لیے لائحہ عمل دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے ، تمام قومی ریاستی سیاسی ادارے آئین اور قانون کے پابند بن جائیں ۔ قومی ترجیحات کے تعین اور سیاسی اقتصادی امن عامہ کے بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز مذاکرات کریں ۔
