لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دفاعی اخراجات زیادہ ہونے کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ چین کی طرح مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی، ہمیں انفرادی کے بجائے اجتماعی سطح پر سوچنا ہو گا۔میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر طویل پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے .
وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) میں چارٹرڈ آف اکانومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ ملک جس مقام پر ہے اس مقام پر پہلے بھی آ چکے ہیں، تاجروں نے پیپلز پارٹی کی 5 سال کی حکومت دیکھی ہے، پنجاب کے بڑے بزنس مین اکھٹے ہوجائیں، آنیوالی نسلوں کے لیے معیشت کی بہتری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مائنڈسیٹ سے نکل کرمعیشت کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اب بھی آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے، دفاعی اخراجات زیادہ ہونے کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ کی ضرورت ہے، گوادر70سال سے یہاں تھا لیکن کسی کو نظرنہیں آ رہا تھا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ معاشی منصوبہ بندی چنددنوں کے لیے نہیں سالوں کے لیے ہوتی ہے۔، چین نے50سالوں کے لیے منصوبہ بندی کررکھی ہے، ہمیں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔پاکستان ہے توہم ہیں، اس کے بغیر آپ کی کوئی اہمیت نہیں۔ہمیں انفرادی کے بجائے اجتماعی سطح پر سوچنا ہو گا۔
شریک چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ کاروباری حضرات سے پیسہ کمانے کے بعد ٹیکس لیا جائے۔برآمدات بڑھانے سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ پنجاب کے بڑے بزنس مین اکٹھے ہوجائیں، میں سرمایہ کاری کی گارنٹی دیتا ہوں۔پہلے لوگوں کو امیر کرو پھر ٹیکس لگاو، پاکستان میں اب آگے جانے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تاجر برادری کا خیال رکھا ہے، معیشت کی بہترہماری آنے والے نسلوں کیلیے ضروری ہے، معیشت پانچ دس برسوں کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کیلیے بنائی جاتی ہے۔ غیرملکی سرمایہ کار پیسہ لگتا ہے تو واپس بھی لے جاتا ہے۔غیرملکی سرمایہ کار ایک ڈالر کے بدلے 5 ڈالر کماتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ میثاق معیشت کیا جائے، اس پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔
