لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مزدور دشمن کالے قوانین کے خاتمے اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہی ہے اورآج بھی ہم قومی بجٹ میں مزدوروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
وہ منصورہ میں صدر آل بنکس ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان ملک احتشام الحسن کی قیادت میں آئے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔وفد میں ولایت احمد فاروقی و دیگر بھی شامل تھے۔ وفد نے اپنے مطالبات کے لیے جماعت اسلامی کی تائید و حمایت پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا شکریہ ادا کیا۔
فرید پراچہ سے ملاقات کرنے والے وفد نے مطالبات کا چارٹر بھی پیش کیا جس کے مطابق بنکنگ کمپنی آرڈیننس کی مزدور دشمن شق 27بی 1997ء کو فوری پر ختم کرنے اور کالے قانون سے مزدوروں کو نجات دلانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے فوری طور پر بل منظور کرایا جائے۔ایم سی بی، یو بی ایل، حبیب بنک، نیشنل بنک، پنجاب بنک، الائیڈ بنک، ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سمیت تمام اداروں کی یونین بحال کر کے یونین سازی کی پاداش میں نکالے گئے تمام ملازمین کو بحال کیاجائے۔ منافع بخش اداروں کی نجکاری فوری طور پر ختم کی جائے، مزدوروں کے حقوق کے خلاف قائم کی گئی پاکٹ یونینز ختم کر کے تمام اداروں میں سی بی اے کے تعین کے لیے فوری طور پر ریفرنڈم کرایا جائے۔
کنٹریکٹ پر کام کرنے والے تمام مزدوروں کو کنفرم کیا جائے، مزدوروں کے والدین کے حقوق کی میڈیکل سہولیات بحال کی جائیں اور تمام اداروں میں ڈیوٹی ٹائمنگ 8گھنٹے یقینی بنا کر 16,16 گھنٹے کے ظالمانہ ڈیوٹی ٹائمنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ 1973ء کے آئین کے مطابق 2012ء ایکٹ کے تحت مزدوروں کو دیے گئے تمام حقوق بحال کیے جائیں اور ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ٹھیکیداری نظام اور تھرڈ پارٹی کنٹیکٹ سسٹم ختم کیا جائے۔٭ـ ایس ایم ای (SME) بنک کے خاتمے کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔
