پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ علی وزیر کو کن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علی وزیر کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے علی وزیر کو ڈمڈیل چیک پوسٹ پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جارہے تھے۔
رکن قانون ساز محسن داوڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ رکن پارلیمنٹ علی وزیر کو شمالی وزیرستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے چئیرمین محسن داوڑ کا قومی اسمبلی میں خطاب۔@mjdawar pic.twitter.com/2ZQH1oQlvY
— Saud Dawar (@sj_dawar) June 19, 2023
انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی آئین اور قانون نام کی چیز نہیں بچی، اندھیر نگری بن چکی ہے۔ ان پر لزام کیا ہے اور انہیں کہاں لے جایا گیا ہے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا جب کہ انہیں ابھی تک عدالت میں بھی پیش نہیں کیا گیا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر پی ٹی ایم کارکنان کے جبری کے اغوا کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ علی وزیر ، منظور پشتین اور دیگر کے ہمراہ گزشتہ چند روز سے پی ٹی ایم کے کارکنوں کی غیرقانونی حراست، تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف میرانشاہ میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
حال ہی میں پی ٹی ایم ڈی آئی خان کے رہنما اور لاپتہ مظلوموں کی آواز عالم زیب محسود خان اور ان کے نوعمر بھانجے محمد سجاد کی ڈی آئی خان کی پولیس کی جانب سے گرفتاری اور 1050 کلو گرام منشیات کی موجودگی اور اس کی فروخت کے جھوٹے مقدمے کی مذمت کی تھی۔
شاید حافط صاحب نےپر امن تحریک پی ٹی ایم کے خلاف محاذ خود سنبھال لیا ہے ایک طرف نارتھ وزیرستان میں پی تی ایم کے دوستوں کو ماورائے عدالت اغواء،دوسری طرف عالمزیب اور کزن کومنشیات کے جھوٹے پرچے پہ اٹھانا منظور اور مجھ سمت پانچ ساتھیو کو ایف آئی اے کے ذریعے نوٹسسز#StopStateTerrorism pic.twitter.com/NeN5M6Na0Y
— Ali Wazir (@Aliwazirna50) June 17, 2023
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں جیل سے رہا ہونے والے ایم این اے علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو پشاور سے مقامی پولیس نے سندھ پولیس کی درخواست پر کراچی کے سہراب گوٹھ تھانے میں ان کے اور پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ جس میں ان پر متعدد الزامات لگائے گئے تھے۔علی وزیر کو 31 دسمبر 2020 کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
