ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز کا کہنا ہے کہ "ہم ترکیہ اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے جائز حقوق کا آخری لمحے تک دفاع کرتے رہیں گے۔”
پہلے غیر ملکی دورے کے دائرہ کار میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ جانے والے یلماز نے ترکیہ کے لیفکوشا میں سفارتخانے میں ایک نیوز چینل کی براہ راست نشریات میں سوالات کا جواب دیا۔
شمالی قبرصی کو تسلیم کرنےکے حوالے سے پیش رفت پر اپنا جائزہ پیش کرنے والے یلماز نے کہا کہ "حالیہ ایام میں ہم نے حد درجے سٹریٹیجک پیش رفت حاصل کی ہے۔ اب کے بعد کے سلسلے میں شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو تسلیم کرنے کے معاملے میں ہم اپنی جدوجہد میں مزید تیزی لائیں گے۔ ترک ریاستوں کی تنظیم میں اس کی مبصر رکنیت اسی چیز کا ایک اشارہ ہے۔ "
شمالی قبرص کے ترک قبرصی عوام کو کسی بھی صورت اقلیت کی حیثیت میں نہیں دھکیلا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں درجہ بندی کے لحاظ سے دوسروں سے نیچے رکھا جا سکتا ہے۔ یکساں طور پر، اسے جزیرے پر اپنی جگہ خود مختار طریقے سے لینا ہوگی۔ تمام پلیٹ فارمز پر ہم اس حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم ہر پلیٹ فارم پر تمام ناانصافیوں اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے حد درجے جائز حقوق کے موقف کا ہر سطح پر دفاع کرتے رہیں گے۔”
مشرقی بحیرہ اسود کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں یلماز نے کہا کہ”مشرقی بحیرہ روم ایک حد درجے اہم محل وقوع ہے اور یہاں اقتصادی پہلو موجود ہیں ، ممالک کے مفاد بھی۔ ایک وقت میں انہوں نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو اس مساوات سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جمہوریہ ترکیہ کی طاقت نے ان کی اس چال کو مات دے دی۔ ان میں سے اہم ترین لیبیا کے ساتھ طے پانےو الا معاہدہ تھا، اس معاہدے کے ساتھ ہی ان کے تمام کھیل ناکامی سے دو چار ہوئے۔
اب ایک نئی مساوات قائم ہوئی ہے۔ ہم ترکیہ اورشمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے جائز حقوق کا دفاع کرتے ہیں، ان کے حقوق بین الاقوامی قانون سے جڑے ہوئے ہیں، یہاں پر قدم پیچھے ہٹانا زیر بحث نہیں ۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ بھی کہتے ہیں، ”یہ ایک مشترکہ علاقہ ہے، آئیے کسی کو باہر دھکیلے بغیر مشترکہ مفادات کی روشنی میں مل کر اس مشترکہ علاقے سے استفادہ کرتے ہیں” ۔
ایرجان ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل کی تعمیر کے کام کے آیا کہ 20 جولائی تک پایہ تکمیل کو پہنچ جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں یلماز نے کہا کہ "ہماری پوری کوشش ہے کہ اس تاریخ تک یہ کام مکمل ہو جائے۔”
وق
